بھارت کی صدر مشرف کو دعوت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ کرکٹ سیریز کے مقابلوں کودیکھنے کے لیے صدر مشرف کے بھارت جانے کی توقع پیدا ہوگئی ہے۔ بھارتی خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے وزیر اعظم کے مشیر سنجے بارو کے حوالے سے کہا ہے کہ صدر مشرف کا یہ دوستانہ دورہ ہو گا۔ صدر مشرف 14 جولائی سن دو ہزار ایک میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات بحال کرنے کے لیے اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم اٹل بھاری واجپائی سے مذاکرات کے لیے بھارت گئے تھے۔ سنجے بارو نے صدر مشرف کے متوقع دورے کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر صدر مشرف میچ دیکھنے کے لیے آتے ہیں تو ان کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی وزارت خارجہ سے کہا گیا ہے وہ پاکستان کے دفتر خارجہ سے معلوم کر ے کہ صدر مشرف کب آنا چاہیں گے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ صدر مشرف کون سا میچ دیکھنے کے لیے بھارت جائیں گے لیکن حال میں پاکستان کے دورے پر جانے والے دو کمیونسٹ رہنما اے بی وردھن اور حرکشن سنگھ سرجیت کے حوالے سے یہ خبر گرم ہے کہ وہ کلکتہ کا ایک روزہ میچ دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔ صدر مشرف کرکٹ کے زبردست شیدائی ہیں اور حالیہ دنوں میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ہندوستان جاکر ہند پاک بھارت میچ دیکھنا چاہیں گے ۔ بھارتی کرکٹ بورڈ پہلے ہی کہا چکا ہے کہ صدر مشرف جب بھی آئیں گے بورڈ ان کا زبردست خیر مقدم کرے گا۔ اس وقت موہالی میں پہلا ٹسٹ میچ چل رہا ہے اور ہزاروں پاکستانی شائقین میچ دیکھنے کے لیے موہالی میں موجود ہیں ۔ فضا میں فی الوقت کرکٹ سے کہیں زیادہ ہند پاک تعلقات میں بہتری کی باتوں کا غلبہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||