پیٹنٹ قانون پر بین الاقوامی احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بین الاقوامی امدادی گروپوں نے بھارتی لوک سبھا پر نئے پیٹنٹ قوانین سے متعلق ایک مسودۂ قانون منظور کرنے پر کڑی تنقید کی ہے۔ اس قانون کا مقصد مقامی دوا ساز کمپنیوں کو پیٹنٹ دواؤں کے اجزا سے سستی دوائیں بنانے سے روکنا ہے۔ بھارت اس قانون کے ذریعے بین الاقوامی تجارتی تنظیم سے کیا ہوا وعدہ پورا کرنا چاہتا ہے۔ اب اس بل کو راجیہ سبھا میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا جس کے بعد یہ باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔ امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ اس قانون سے لاکھوں افراد زندگی بچانے والی سستی ادویہ سے محروم ہو جائیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس بل سے دنیا بھر میں ایڈز اور کینسر کے ہزاروں مریض بھی متاثر ہوں گے۔ اوکسفیم کے ریجنل پالیسی ایڈوائزر ثمر ورما کا کہنا ہے کہ ’ بھارت سستی ادویہ تیار کرنے والے دنیا کے چند برے ممالک میں سے ہے اور اس قانون سے وہ بہت سے ترقی پذیر ممالک متاثر ہوں گے جو کہ بھارت سے یہ ادویہ خریدتے ہیں۔‘ فرانسیسی کمپنی ایم ایس ایف کی جانب سے بھارتی کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کو ایک خط لکھا گیا ہے جس میں کمپنی نے اس بل پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے اس قانون کو منظوری کے لیے پیش کرنے سے قبل ان تمام پہلووؤں پر غور کر لیا تھا۔ بھارتی وزیرِ تجارت کمل ناتھ کا کہنا ہے کہ تمام انتظامات کرلیے گئے ہیں اور حکومت اتنی طاقتور ہے کہ ادویہ کی قیمتوں میں اضافے کو روک سکے۔ یہ نیا قانون پہلے سے موجود پیٹنٹ قانون کی جگہ لے گا جس کے تحت دوا ساز کمپنیوں کو پیٹنٹ دواؤں کے اجزا سے سستی دوائیں بنانے کا اختیار حاصل ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||