جھارکھنڈ:گورنر کی صدر سے ملاقات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جھار کھنڈ کے گورنر سیّد سبط رضی نے کہا ہے کہ شیبو سورین کی حکومت سے ریاستی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ اب ذرا جلدی حاصل کرنے کو کہا جائے گا۔ اس سے پہلے انہیں اس ماہ کی اکیس تاریخ تک کا وقت دیا گیا تھا۔ گورنر نے یہ فیصلہ صدر جمہوریہ سے ملاقات کے بعد کیا ہے۔ جھارکھنڈ میں نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے گورنر کے کردار پر نکتہ چینی کی گئی تھی جس کے بعد صدر نے گورنر کو دلی طلب کیا تھا۔ باور کیا جاتا ہے کہ گورنر نے صدر جمہوریہ اے پی عبدالکلام سے ملاقات میں اپنے موقف کی وضاحت کی ہے۔ صدر سے ملاقات کے بعدگورنر سبطِ رضی نے کہا کہ’ میں نے ریاست کی صورت حال کے متعلق صدر سے تبادلہ خیال کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ حکومت کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے جو وقت دیا گیا ہے اس میں کمی کی جائےگی‘۔ ایک سوال کے جواب میں سبطِ رضی نے کہا کہ انہوں نے آئین کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے اور انکی ہر ممکن کوشش یہی ہوگی کی آئین کا تحفظ ہو۔ انکا کہنا تھا کہ صدر نے انکے نکتہ نظر کو اچھی طرح سنا ہے۔ لیکن بقول ان کے دونوں کے درمیان بات چیت کیا ہوئی اسے ظاہر کرنا درست نہیں ہے۔ گورنر نے شیبو سورین کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے اکیس مارچ تک کا وقت دیا تھا۔ نئی معیاد کے متعلق انکا کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے میں وزیراعظم منموہن سنگھ، وزیرداخلہ شیو راج پاٹل اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ صلاح و مشورے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق گورنر دلی میں ان رہنماؤں سے صلاح و مشورے میں مصروف ہیں۔ادھر اسی معاملے پر پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں آج تیسرے روز بھی ہنگامہ جاری رہا۔ جس کے بعد سپیکر نے لوک سبھا کے اجلاس کو نو مارچ تک کے لیے ملتوی کردیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||