جے این دیکشت انتقال کر گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اور ماہر سفارت کار جے این دیکشت حرکتِ قبل بند ہوجانے کی بنا پر دہلی میں انتقال کر گئے ہیں۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر کرنے میں اہم کردار ادا کرنے والے جے این دیکشت کو اتوار کی صبح کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد انہیں دلی کے آل انڈيا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ آف سائینس میں لے جا یا گيا لیکن ڈاکٹروں کے مطابق ان کا انتقال ہو چکا تھا۔ مسٹر دیکشت کو گزشتہ برس مئی کے مہینے میں یو پی اے یعنی متحدہ ترقی پسند محاذ حکومت نے برجیش مشرا کی جگہ سلامتی کا مشیر مقرر کیا تھا۔حکومت میں ان کا عہدہ بطور وزیر مملکت کے تھا۔ ان کا پورا نام جیتیندر ناتھ منی دیکشت تھا ۔ انہوں نے مالدیپ کو چھوڑ کر تمام سارک ممالک میں ہندوستان کےسفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں تھیں۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جاری امن مذاکرات ميں بھی ان کا بہت اہم کردار تھا اور انہوں نے بھارت اور پاکستان کے رشتوں پر کئی کتابیں بھی لکھی تھیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے جے این دیکشت کی موت کامطلب ہندوستان کے ایک عظیم ڈپلومیٹ کا خاتمہ ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے مسٹر دیکشت کے انتقال پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے اپنا ایک ایسا قریبی دوست کھو دیا ہے جو ایک قدرداں ساتھی، مشورے کا ذریعہ اور ہماراحمایتی تھا‘ ۔انہوں نے دیکشت کو ایک بڑا ڈپلومیٹ اور زبردست قوم پرست بتایا۔ کانگریس کی صدرسونیا گاندھی سمیت ملک کے تمام بڑ ے رہنماؤ ں نے مسٹر دیکشت کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ دیکشت جنوبی ریاست کیرالا میں 1936 میں پیدا ہوئے تھے۔ بچپن میں وہ گاندھیائی نظریات اور ادب کے زیر سایہ وہ پروان چڑھے۔ پنڈت نہرو کی حکومت میں انہیں دفتر خارجہ کے دفتر میں کام کرنے کا موقع ملا ۔وہ نہرو کے نظریات اور ان کی پالیسیوں سے کا فی متاثر تھے۔ لیکن ہندوستان کی جدید خارجہ پالیسی کا انہیں معمار کاجاسکتا ہے۔ جے این دیکشت ایک اچھے کالم نگار تھے اور مختلف امور پر تاحیات ان کا قلم چلتا رہا خارجی امور کے متعلق انہیں کافی مہارت تھی ۔ خاص طور پر پاکستان اور امریکہ کے ساتھ ان کی حکمت عملی کو ان کے مخالفین نے بھی سراہا تھا۔ انہیں اندرا گاندھی کے ساتھ بہت قریب سے کام کرنے کا موقع ملا تھا۔ بنگلہ دیش کی آزادی میں حکمت عملی تیار کرنے میں وہ پیش پیش تھے اور جنگ کے خاتمے کے فوراً بعد وہ بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر مقرر کیۓ گۓ تھے ۔ ہندوستان نے جب 1987 میں ایل ٹی ٹی ای کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت سری لنکا میں اپنی امن فوج بھیجی تھی تو اس وقت مسٹر دیکشت سری لنکا میں ہندوستان کے ہائی کمشنر تھے۔اور وہاں کے لیڈروں کے ساتھ ان کے بڑے گہرے تعلقات تھے۔ بھارت نے بغیر کسی عالمی ادارے کی منظوری کے پہلی بار ملک کے باہر (سری لنکا کو) اپنی فوج بھیجی تھی۔ تامل باغیوں سے لڑائی میں سینکڑوں فوجی ہلاک ہلاک ہوئے اور اس کے لیے راجیو گاندھی حکومت پر بھی شدید نکتہ چینی ہوئی تھی۔ انہیں افغانستان میں بھی اس وقت ہندوستان کا پہلا سفیر بنایا گیا تھا جب مجاہدین اور روسی افواج کے درمیان کابل میں گھمسان کی لڑائی جاری تھی ۔ اسلام آباد میں بھی انہوں نے ہائی کمیشنر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دیں تھیں۔ اسی زمانے میں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں تشدد اور دہشت گردی عروج پر تھی او ر کچھ فیصلوں کے لیے مسٹر دیکشت پر شدید نکتہ چینی بھی ہوئی تھی۔ نرسماراؤ کی حکومت میں مسٹر دیکشت خارجہ سیکریٹری تھے۔ اسی زمانے میں بابری مسجد کی مسماری کے بعد 1993 میں ممبئی میں زبردست بم دھماکے ہوئے۔ وزیر اعظم نرسمہا راؤ کے صلاح و مشورے سے انہوں نے اسرائیل کا تاریخی دورہ کیا۔ اس دورے کے بعد ہندوستان نے تقریبا 45 برس بعد تل ابیب کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ آج اسرائیل ہندوستان کو ہتھیار دینے والا روس کے بعد دنیا کاسب سے بڑا ملک ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||