ریلوے منسٹر کے استعفے کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست پنجاب میں دو ٹرینوں کے حادثے میں مرنے والوں کی تعداد چھتیس ہو گئی ہے جبکہ ایک سو پچیس کے قریب لوگ زخمی ہو گئے ہیں۔ ان میں سے بہُتر (72) کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ دریں اثناء دہلی میں ارکان پارلیمان نے اس حادثے پر ریلوے کے وزیر لالو پرساد یادو کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ ریلوے منسٹر لالو پرساد یادو نے اس حادثے کو ’بہیمانہ قتل‘ قرار دیا ہے اور اس کی تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے۔ تاہم حزب اختلاف کے رہنماؤں نے بدھ کے روز پارلیمان میں ہنگامہ آرائی کی اور مطالبہ کیا کہ لالو پرساد یادو اس حادثے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دیں۔ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے کہا: ’جب ہمارے دور اقتدار میں اس طرح کا ایک حادثہ ہوا تھا تو ریلوے کے وزیر نے استعفیٰ کی پیشکش کی تھی۔‘ پنجاب کے وزیر اعلٰی امریندر سنگھ نے ریاستی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ حادثے میں مرنے والوں کی تعداد پچاس تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم ریلوے حکام ابھی تک یہ تعداد پینتیس کے لگ بھگ بتا رہے ہیں۔
یہ واقعہ ضلع ہوشیار پور میں منسرگاؤں کے پاس مرتھالہ اور بانگر ریلوے سٹیشن کے درمیان پیش آیا۔ امدادی کارروائی جاری ہے اور زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پٹھاں کوٹ سےآنے والی مسافر گاڑی جموں احمدآباد ایکسپریس ٹرین سے ٹکرائی جس سے کئی ڈبے پٹری سے نیچے اتر گئے۔ ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا ہے اس حادثے میں ٹرین کا ایک ڈرائیور بھی ہلاک ہوا ہے۔ ریلوے کے وفاقی وزیر لالو پرساد نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور مرنے والوں کے ورثاء کو فوری طور پر ایک لاکھ اور بعد میں چار لاکھ کا معاوضہ دینے کے علاوہ نوکری دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ پنجاب کے وزیر اعلٰی پہلے ہی متاثرین کے لئے ایک لاکھ فی کس کے معاوضے کا اعلان کر چکے ہیں۔ ہندوستان میں دنیا کا ریلوے کا سب سے بڑا نظام ہے جس میں ہروز ایک لاکھ کلو میٹر کے ٹریکس پر تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ افراد ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتے ہیں۔ ریلوے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹرین حادثے سے انڈین ریلوے نیٹ ورک میں حفاظتی پیمانوں کی غیرمعیاری نوعیت سامنے آگئی ہے۔ ریلوے کے امور کے ماہر ٹی آر رام چندر نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ ریلوے میں کمیونیکشن کے نظام کو بہتر بنانے کی بات کی جاتی رہی ہے لیکن اس بارے میں اقدامات کچھ ہی علاقوں میں کیے گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||