بھوپال: مرنے والوں کو یاد کیا گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے شہر بھوپال میں آج سے ٹھیک بیس سال قبل ایک صنعتی حادثے میں ہلاک ہونے والے ہزاروں افراد کو شمعیں جلا کر یاد کیا گیا۔ جمعرات کو آدھی رات کے بعد عین اس وقت جب سالوں پہلے یونین کاربائڈ کے پلانٹ سے زہریلی گیس خارج ہوئی تھی ہلاک ہونے والوں کے لواحقین اور اس حادثے میں زخمی ہونے والوں نے مذکورہ پلانٹ کے باہر کھڑے ہو کر خاموشی اختیار کی۔ انیس سو چوراسی میں تین دسمبر کی رات کو یونین کاربائڈ کے پلانٹ کے ایک ٹینک سے چالیس ٹن زہریلی گیس خارج ہو کر شہربھر میں پھیل گئی تھی۔ گیس کے اس اخراج کے نتیجے میں کم سے کم اٹھارہ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ خیال ہے کہ ہزاروں لوگ اب بھی گیس کے اثرات کا شکار ہیں۔ مذکورہ پلانٹ کی جگہ اب بھی پچیس ہزار ٹن زہریلا مادہ بکھرا ہوا ہے۔ ریاست مدھیا پردیش کی حکومت نے کہا ہے کہ اس نے اس جگہ کے معائنے کا حکم دے دیا ہے۔ انسانی حقوق کی کچھ تنظیموں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں قائم کمپنی یونین کاربائڈ نے جو اس پلانٹ کو چلاتی تھی حادثے کا شکار ہونے والے افراد کو پورا ہرجانہ ادا نہیں کیا۔ کمپنی، جو اب ڈاؤ کیمیکل کی ملکیت، کا کہنا ہے کہ اس نے حادثے کے وقت اخلاقی ذمہ داری قبول کی تھی اور وہ اس واقعے کو تخریبکاری کا نتیجہ قرار دیتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||