فلسطین، ہندوستان کا رشتہ پرانا ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یاسر عرفات کے ہندوستان سے بہت گہرے تعلقات تھے۔ عرب ممالک کے علاوہ ہندوستان ان چند ممالک میں سے ایک تھا جس نے فلسطینی تحریک کی زبردست حمایت کی ہے۔ فلسطینی جدو جہدِ آزادی کی حمایت ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم جز رہی ہے۔ اندراگاندھی سے لیکر راجیو گاندھی تک اور بعد میں گُجرال سے لیکر اٹل بہاری واجپئی تک سبھی رہنماؤں نے نہ صرف فلسطینی جدوجہد کی حمایت کی بلکہ انکے یاسر عرفات سے قریبی تعلقات رہے ہیں۔ ہندوستان ان ملکوں میں شامل تھا جب اسی کی دہائی میں بالکل ابتدائی دور میں اس نے نئی دِلّی میں فلسطینی دفتر کو باضابطہ سفارتخانے کے طور پو تسلیم کیا۔ بعد میں جب رملہ میں فلسطینی انتظامیہ وجود میں آئی اور چیئرمین عرفات اسکے سربراہ منتخب ہوئے تو ہندوستان میں انہیں صدر کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ بی جے پی کے حالیہ دورے حکومت میں ایک مرحلہ ایسا ضرور آیا جب ہندوستان کا جھکاؤ اسرائیل کی طرف نظر آیا لیکن زبردست بحث و مباحثے اور عملی حقیقتوں کے پیش نظر حکومت کو بار بار اسکی وضاحت کرنی پڑی کہ اسرائیل سے اسکے بڑھتے ہوئے تعلقات عرب ممالک سے دوستانہ تعلقات کی قیمت قائم نہیں ہیں۔ ہندوستان کی موجودہ حکومت نے یہ بالکل واضح کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی جدوجہد کی مکمل حمایت کرتی ہے اور ایک فلسطینی مملکت کے قیام میں اپنے طور جو بھی مدد ہو سکتی ہے کریگی۔ یاسر عرفات کے انتقال سے ہندوستان نے عرب ممالک میں ایک قریبی اور قابل اعتبار دوست کھو دیا ہے۔ مسٹر عرفات نے فلسطینی تحریک کے لیے ہندوستان کے عوام کی حمایت کی ہمیشہ ستائش کی تھی۔ غیر ملکی رہنماؤں میں انکا شمار ان چند رہنماؤں تھا جنہیں ہندوستان میں بے پناہ مقبولیت حاصل تھی۔ ان کے انتقال پر ہندوستان کے ہر حلقے میں رنج و غم کا اظہار کیا گيا۔ ملک کے صدر اے پی جے عبدالکلام نے یاسر عرفات کو فلسطینی قومیت کی ایک زبردست علامت کہا اور انہیں ایک عظیم محبِ وطن اور مدبر قرار دیا۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ایک تعزیتی پیغام میں کہا کہ ہندوستان کی عوام نے فلسطینی عوام کی تحریک اور فلسطینی مملکت کے قیام کے لیے اُن کی جد وجہد کی ہمیشہ تہہ دل سے ستائش کی ہے۔ حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر ایل کے اڈوانی نے عرفات کے انتقال کو زبردست نقصان سے تعبیر کیا ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ صدر یاسر عرفات تحریک آزادی کے ایک عظیم رہنما اور فلسطین کے ایک مایہ ناز سپوت تھے۔ انکی وفات سے ایک عظیم دور کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ ہندوستان کے غیر سیاسی حلقوں میں بھی فلسطینی رہنما کے انتقال پر صدمے کا اظہار کیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||