مہاراشٹر میں ووٹنگ مکمل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی مغربی ریاست مہاراشٹر میں ہونے والے اہم انتخابات میں پولنگ ختم ہو گئی ہے۔ پولنگ کے دوران مختلف مقامات پر ہونے والے تشدد کے واقعات میں تین افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ الیکشن کمشن کے حکام کے مطابق ریاست اترپردیش کے علاقے مین پوری میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے دوران ہونے والے تشدد کے ایک واقعہ میں دو افراد ہلاک ہوئے۔ اترولی میں ریاستی اسمبلی کے لیے ہونے والے پولنگ میں ایک شخص ہلاک ہوا۔ مہاراشٹر میں پولنگ عمومی طور پر پرامن رہی۔ گڑھ چرولی میں نیکسلائیٹوں نے گڑھ بڑ پھیلانے کی کوشش کی جس کی وجہ سے پولنگ کچھ دیر لیے روکنی پڑی۔ سکیورٹی فورس کی بروقت کارروائی سے اس پر قابو پا لیا گیا۔ ریاست میں حکمران کانگریس پارٹی کی قیادت والےاتحاد کو ہندو قوم پرست شو سینا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے اتحاد کا سامنا تھا۔اسمبلی کی 288 نشتوں کے لئے آزاد امیدواروں سمیت تقریباً 3000 امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔ مہاراشٹر کے انتخابات کے ساتھ ساتھ 15 ریاستوں میں 42 اسمبلی نشستوں اور تین پارلیمانی نشتوں پر ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ ہوئی۔ اس سال مئی میں ہونے والے عام انتخابات میں کانگریس سے بی جے پی اتحاد کی شکست کے بعد بھارت میں یہ پہلے بڑے انتخابات ہیں۔ حالانکہ ریاست کی 48 لوک سبھا نشتوں میں 25 پر بی جے پی شو سینا اتحاد کو کامیابی ملی تھی اور کانگریس کے ہاتھ صرف 22 نشتیں آئی تھیں ۔ اگر مہا راشٹر کے ان اتخابات میں کانگریس اتحاد آگے رہتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہوگا کے ملک کے عام انتخابات کے بعد بھی کانگریس کی مقبولیت برقرار ہے۔ اس کامیابی سے کانگریس صدر سونیا گاندھی کی قیادت پر سوال اٹھانے والوں کو بھی جھٹکا لگے گا۔ دوسری طرف بی جی پی کی مقبولیت پر بھی سوالات پیدا ہوں گے۔ان انتخابات میں جہاں بڑی تعداد دولت مند امیدواروں کی ہے وہیں خاصی تعداد ایسے امیدواروں کی بھی ہے جن پر جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ مہاراشٹر صنعتی طور پربھارت کی ترقی یافتہ ریاست ہے اور ملک میں ٹیکس کی ادائیگی میں اس کا 38 فیصد حصہ ہے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||