کشمیر: پِیر حسام الدین قتل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں پولیس کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے علیحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی کے ایک قریبی رفیق پیر حسام الدین کو ہلاک کر دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پیر حسان الدین کو بدھ کی صبح سرینگر میں سر میں گولی ماری گئی اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ پیر حسام الدین کو ایک روز قبل ہی سید علی شاہ گیلانی کی جماعت تحریک حریت میں سیاسی امور کا ذمہ دار بنایا گیا تھا۔ تحریک حریت نے بھارتی خفیہ اداروں کو پیر حسام الدین کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ وہ سن انیس ستر سے کشمیر میں جماعت اسلامی کے سرگرم رکن تھے۔ جماعت اسلامی نے گزشتہ سال سید علی شاہ گیلانی کی حمایت کی وجہ سے چار ماہ کے لیے ان کی رکنیت منسوخ کر دی تھی۔ لیکن کچھ عرصہ قبل جماعت نے انہیں تحریک حریت میں کام کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ ان کی ہلاکت کو سید علی شاہ گیلانی کے لیے دھچکہ قرار دیا جا رہا ہے جن کے بارے میں خیال ہے کہ انہیں شدت پسند تنظیموں کی حمایت حاصل ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||