راجیہ سبھا کے الیکشن کا حکم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے سپریم کورٹ نے ملک کے ایوانِ بالا یا راجیہ سبھا کے انتخابات کروانے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ الیکشن جو اصل میں اکیس جون کو ہونا تھے راجیہ سبھا کے ایک رکن کلدیپ نیّر کی طرف سے ایک پیٹیشن کے بعد موخر کئے جانے تھے۔ لیکن پچھلے ہفتے کورٹ نے حکم دیا تھا کہ یہ الیکشن کروائے جائیں۔ اپنی پٹیشن میں کلدیپ نیّر نے آئین میں حالیہ ترامیم کو چیلنچ کیا تھا جن کے تحت راجیہ سبھا کے انتخاب میں امیدواروں کے لئے یہ ضروری نہیں رہا کہ ان کا تعلق اسی ریاست سے ہو جس سے وہ انتخاب لڑ رہے ہیں۔ کلدیپ نیّر نے خفیہ بیلٹ کی جگہ اوپن بیلٹ متعارف کروائے جانے کو بھی چیلنج کیا تھا۔ بدھ کے روز سپریم کورٹ نے ملک کے آزاد الیکشن کمیشن کو راجیہ سبھا کے الیکشن کے لئے نئے شیڈول کی تیاری کا حکم جاری کردیا۔ تاہم کورٹ کا کہنا ہے کہ راجیہ سبھا کی پینسٹھ سیٹوں کے مستقبل کا تعین کلدیپ نیّر کی پٹیشن پر حتمی فیصلے کے بعد ہوگا۔ راجیہ سبھا کے ارکان کا انتخاب ریاستی اسمبلیاں اور لوک سبھا کے ارکان کرتے ہیں اور ان کے ممبر چھ سال کی مدت کے لئے منتخب کئے جاتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||