بھارت: ٹرین حادثے میں کم از کم 37 ہلاک

بھارت کی ریاست بہار کے ایک دور دراز ریلوے سٹیشن پر ٹرین حادثے میں کم از کم سینتیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
بہت سے افراد شدید زخمی ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔
ٹرین سٹیشن پر موجود زیادہ تر مسافر ہندو زائرین تھے جو کہ ایک مقامی ٹرین سے دھمارہ گھاٹ سٹیشن پر اترے تھے اور سہارسہ ضلع میں ایک مندر کی جانب جا رہے تھے۔
اطلاعات کے مطابق یہ زائرین پٹری عبور کرتے ہوئے دوسری جانب سے آنے والی راجیہ رانی ایکسپریس کی زد میں آگئے۔ یہ واقعہ بھارت کے مقامی وقت کے مطابق صبح پونے نو بجے پیش آیا۔
<link type="page"><caption> اوڑیسہ:ٹرین کی ٹکر سے پانچ ہاتھی ہلاک</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2012/12/121230_elephant_train_crash.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> تصاویر: بھارتی ریل گاڑیوں کے غریب مسافر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2013/01/130131_train_rail_india_poor_sz.shtml" platform="highweb"/></link>
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ سٹیشن سے گزرتے ہوئے ٹرین کی رفتار بہت زیادہ تھی کیوں کہ ٹرین نے اس سٹیشن پر نہیں رکنا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حادثے کے بعد ٹرین چند میٹر دور جا کر رک گئی اور اطلاعات کے مطابق مشتعل ہجوم نے ٹرین کے ڈرائیور کو مارا پیٹا اور دو بوگیوں کو آگ لگا دی۔انڈین ریلوے کے ترجمان امیتابھ پربھاکر کے مطابق ہندو زائرین اس وقت ہلاک ہوئے جب وہ لال اشارے کے باوجود مرین کی پٹری عبور کرتے ہوئے ٹرین کی زد میں آگئے۔
سینیئر ریلوے اہلکار ارن ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
دھمارہ گھاٹ کا قصبہ ریاستی دارالحکومت پٹنا سے تقریباً ایک سو اسّی کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔
بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار نے واقعے پر اظہارِ افسوس کیا ہے اور ضلعی اہلکاروں کو ٹرین سٹیشن پر پہنچنے کے احکامات دیے ہیں۔
بھارت میں ریلوے کا ایک وسیع نیٹ ورک ہے جس میں نو ہزار مسافر ٹرینیں شامل ہیں جن میں روزانہ تقریباً دو کروڑ افراد سفر کرتے ہیں۔
ریلوے حکام نے بتایا کہ گذشتہ پانچ سالوں میں بھارت میں ٹرین حادثوں میں ایک ہزار دو سو بیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
بہار ایک ایسی ریاست ہے جہاں نکسلی علیحدگی پسند ماؤ ٹرینوں پر حملے کرتے رہے ہیں۔







