سپین ٹرین حادثہ: ڈرائیور پر قتل کا الزام عائد

ٹرین کے ڈرائیور کو اتوار کے روز عدالت میں پیش کیا گیا
،تصویر کا کیپشنٹرین کے ڈرائیور کو اتوار کے روز عدالت میں پیش کیا گیا

پولیس نے سپین میں حادثے کا شکار ہو جانے والی ٹرین کے ڈرائیور کو مشروط طور پر رہا کر دیا ہے۔

ٹرین کے ڈرائیور کو غیر ذمہ دارانہ قتل کے الزامات میں جج کے سامنے پیش کیا گیا، جس کے بعد ان کی رہائی عمل میں آئی۔

میڈیا کے مطابق ڈرائیور فرانسسکو ہوزے گارزون کو اب بھی فوج داری الزامات کا سامنا ہے۔

ٹرین ہسپانوی شہر سانتیاگو دے کامپوستیلا کے قریب حادثے کا شکار ہو گئی تھی، جس میں 79 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ایک عدالت نے کہا کہ گارزون کو رہا کر دیا گیا ہے لیکن ان کا پاسپورٹ ضبط کر دیا گیا ہے۔

گارزون کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا۔ شبہ ہے کہ وہ موڑ مڑتے وقت حد سے کہیں زیادہ رفتار سے ٹرین چلا رہے تھے۔

عدالت نے ایک بیان میں کہا کہ گارزون ہر ہفتے عدالت میں پیش ہوں اور انھیں بغیر اجازت سپین سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔

اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ ٹرین حادثے کے وقت مقررہ رفتار سے دگنی رفتار پر سفر کر رہی تھی۔

گارزون خود بھی اس حادثے میں زخمی ہو گئے تھے۔ سنیچر کو جب وہ ہسپتال سے فارغ ہوئے تو انھیں فوری طور پر سانتیاگو کے مرکزی پولیس سٹیشن لے جایا گیا۔

انھوں نے اب تک بیان دینے یا سوالوں کے جواب دینے سے اجتناب کیا ہے۔

ایک ہسپانوی اخبار ال پائیس نے لکھا ہے کہ گارزون نے عدالت میں ’غیرذمےداری‘ کا اعتراف کر لیا ہے۔

سنیچر کے روز ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے حادثے کے چند منٹ بعد ڈرائیور کو یہ کہتے سنا تھا کہ وہ بہت تیز جا رہا تھا۔

سانتیاگو کے باشندے ایوارستو اگلیسیاس نے کہا کہ ڈرائیور کہہ رہا تھا کہ اس نے گاڑی کو آہستہ کرنے کی کوشش کی لیکن اس وقت تک ’بہت دیر ہو چکی تھی‘۔

اگلیسیاس نے کہ کہا کہ صدمے کا شکار ڈرائیور بار بار یہ کہہ رہا تھا کہ وہ حادثے کے بعد تباہی کے مناظر دیکھنے کی بجائے مرنا چاہتا ہے۔

یہ سپین کی تاریخ کے بدترین ٹرین حادثوں میں سے ایک تھا۔