سپین: ہلاکتیں 80، ڈرائیور سے تفتیش شروع

جس علاقے میں حادثہ پیش آیا وہاں جمعرات کو تعطیل ہے اور لوگ جشن کی تیاریوں میں مصروف تھے
،تصویر کا کیپشنجس علاقے میں حادثہ پیش آیا وہاں جمعرات کو تعطیل ہے اور لوگ جشن کی تیاریوں میں مصروف تھے

حکام نے بتایا ہے کہ شمال مغربی سپین میں ٹرین کے حادثے کے بعد ایک ڈرائیور کے خلاف باضابطہ طور پر تفتیش کی جا رہی ہے۔

سینتیاگو کومپوستیلا کے قریب ہونے والے اس حادثے میں کم از کم 80 افراد ہلاک اور 160 سے زائد زخمی ہو گئے تھے جن میں سے 32 شدید زخمی ہیں۔

ٹرین کا بلیک باکس جج نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

گالیسیا کی سپریم کورٹ کی خاتون ترجمان نے کہا کہ ڈرائیور زیرِتفتیش ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ان کا اشارہ ٹرین کے دو ڈرائیوروں میں سے کس کی جانب ہے۔

ریلوے کے سربراہ رینفے ہولیو پومار نے اخبار ال منڈو کو بتایا کہ 52 سالہ ڈرائیور کا 30 سالہ تجربہ تھا اور وہ اس لائن پر گذشتہ ایک برس سے ٹرین چلا رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ حادثہ کسی تکنیکی وجہ سے نہیں ہوا۔

انھوں نے کہا: ’اس ٹرین کا اسی صبح ہی معائنہ ہوا تھا۔ ان ٹرینوں کا ہر ساڑھے سات ہزار کلومیٹر بعد معائنہ کیا جاتا ہے۔‘

تاہم ہسپانوی میڈیا نے نامعلوم تفتیشی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ایک ڈرائیور نے حادثے کی تھوڑی دیر بعد بتایا کہ ٹرین جب موڑ مڑنے لگی تو اس وقت اس کی رفتار 190 کلومیٹر فی گھنٹا تھی، حالاں کہ حدِرفتار 80 کلومیٹر فی گھنٹا تھی۔

میڈرڈ میں بی بی سی کے نامہ نگار ٹام برج کہتے ہیں کہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا حادثے کی وجہ ڈرائیور کی غلطی تھی یا ٹرین کے نظام کی خرابی۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سپین نے اپنے ریلوے نیٹ ورک پر بڑی مقدار میں پیسہ لگایا ہے، اور ان ٹرینوں کی سلامتی کا ریکارڈ نسبتاً اچھا ہے۔

امدادی کارکن اب بھی ملبے میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں
،تصویر کا کیپشنامدادی کارکن اب بھی ملبے میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں

سپین کے وزیرِاعظم ماریانو راہوئے نے اس حادثے پر غم و صدمہ کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے کہا: ’آج بہت مشکل دن ہے۔ آج ہم ایک بہت سنگین اور ڈرامائی حادثے سے دوچار ہوئے ہیں، اور مجھے خدشہ ہے کہ اس کی یاد بہت عرصے تک ہمارے ساتھ رہے گی۔‘

یہ حادثہ بدھ کی رات کو اس وقت پیش آیا تھا جب میڈرڈ سے فیرول جانے والی ٹرین کی تمام آٹھ بوگیاں سینتیاگو دی کومپوستیلا شہر کے قریب الٹ گئی تھیں۔

اس ٹرین پر 218 مسافر سوار تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سپین میں گذشتہ 40سال کے دوران یہ ٹرین کا بدترین حادثہ ہے اور گلیسیا کے علاقے میں سات روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

میڈرڈ میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق سپین میں عموماً ریل کا نظام حفاظت کے لحاظ سے اچھے ریکارڈ کا حامل ہے اور ملکی تاریخ میں اس حادثے سے قبل ٹرین کا بدترین حادثہ 1972 میں اندلوسیا میں پیش آیا تھا جس میں 77 افراد مارے گئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے پولیس کے تین سو بیس اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ملک کے جس خطے میں یہ حادثہ پیش آیا وہاں جمعرات کو تعطیل تھی اور لوگ جشن کی تیاریوں میں مصروف تھے۔

ان تقریبات میں ہزاروں عیسائی زائرین نے سینتیاگو میں سینٹ جیمز کے احترام میں منعقدہ میلے میں شرکت کرنا تھی تاہم اب سیاحتی بورڈ نے تمام تقریبات کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مقامی صحافی فریکانسو کامینو نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹرین حادثے نے یہاں کے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان کے مطابق ’یہ ایک چھوٹا سا علاقہ ہے جہاں کبھی کچھ نہیں ہوا، کبھی کوئی اہم یا افسوسناک، ہم یہاں جشن منانے کی تیاریوں میں تھے اور یہ ایک بدترین حادثے میں تبدیل ہو گیا۔‘