ننھے خوابوں کی اجتماعی قبریں

- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
بھارت کی شمالی ریاست بہار کے ایک سکول میں زہریلا کھانا کھانے سے ہلاک ہونے بچوں کی آخری رسوم ادا کر دی گئیں ہیں۔
جس جگہ چند دنوں پہلے تک ایک کمیونٹی عمارت میں پرائمری سکول چلایا جا رہا تھا وہاں اب ان بچوں کی یاد میں ایک اجتماعی قبر بنا دی گئی ہے۔
ریاستی دارالحکومت پٹنہ اور دہلی میں 23 بچوں کی موت کے سانحے کی خبر اب پس منظر میں چلی گئی ہے۔
بازارِ حصص میں اتار چڑھاؤ، سود کی شرح، دہلی میں بارش سے سڑکیں جام اور غیر ملکی سرمایہ کاری جیسے سوالات اس وقت قومی خبروں کا محور ہیں۔
ادھر پٹنہ سے محض 80 کلومیٹر کی دوری پر واقع سارن ضلع کے غریب والدین اپنے کمسن بچوں کی موت کا ماتم کرتے کرتے تھک چکے ہیں۔ سانحہ اتنا بھیانک اور اتنا تکلیف دہ تھا کہ بچوں کے والدین ابھی تک یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی دنیا کیوں ویران ہو گئی۔
بھارت دنیا کے ان ملکوں میں شامل ہے جہاں غربت کے سبب کروڑوں معصوم بچے زندہ رہنے کے لیے فیکٹریوں، دکانوں، گھروں اور کھیتوں میں کام کرنے پر محبور ہیں۔
حکومت نے مڈ ڈے میل یعنی سکول میں بچوں کو مفت کھانے فراہم کرنے کی سکیم کے تحت پورے ملک میں پرائمری سکولوں کے بارہ کروڑ بچوں کو مفت کھانا فراہم کرنے کے لیے کئی برس پہلے شروع کی تھی۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی فلاحی سکیم تھی اور اس کا مقصد غریب بچوں کو غربت سے نکالنے کے لیے تعلیم کی طرف راغب کرنا تھا۔
حکومت نے اسے مزید موثر بنانے کے لیے بچوں کے کام کرنے کو غیر قانونی قرار دیا۔ ان دونوں اقدام سے چند برس کے اندر ہی خاطر خواہ فرق نظر آیا ہے۔ سکولوں میں پرائمری سطح پر داخلوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور بہت کم بچے اب مزدوری کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

بھارت ہمیشہ سے ایک ایسا معاشرہ رہا ہے جہاں مزدوروں، غریبوں، دستکاروں اور چھوٹے کام کرنے والوں کو حقارت کی نظر سے دیکھا گیا ہے۔ صدیوں سے ایک چھوٹا سا متمول طبقہ بھارت کے وسائل پر قابض ہے اور ملک کی اکثریت کے مقرر کو یرغمال بنائے ہوئے ہے۔
پینسٹھ برس قبل یورپی طرز کی جمہوریت اختیار کرنے کے باوجود بھارت کی اکثریت کے لیے زندگی آج بھی محض زندہ رہنے کی ایک مسلسل جد وجہد ہے۔
ملک کا مراعات یاقتہ طبقہ محروم اکثریت سے لاتعلق ہے اور بھارت کے صنعت کاروں میں نہ تو کوئی بل گیٹس ہے، نہ ٹرنر اور نہ وارین بوفٹ ہیں جو یہ سمجھتے ہوں کہ دولت کے حصول سے سماجی ذمے داریاں بھی منسلک ہیں۔ مڈ ڈے میل سکیم ہو یا فوڈ سکیورٹی بل، ہر فلاحی قدم کو متمول طبقہ اور سیاسی رہنما احسان عظیم کے طور پر جتاتے رہے ہیں ۔ سارن کے 23 بچوں کی موت سے غریب والدین کی دنیا تو ویران ہو گئی لیکن ملک کے پالیسی سازوں کے لیے یہ محض ایک واقعہ ہے ۔
اکثر اخباروں میں ایسی تصویریں شائع ہوتی ہیں جس میں کسی ریاست کے وزیراعلیٰ کو سردیوں میں فٹ پاتھ پر سونے والے کسی بے گھر انسان کو کمبل دیتے ہوئے دکھایا دیتا ہے۔ یہ رہنما اس حالت کے لیے شرمندگی محسوس کرنے کے بجائے غریبوں میں کمبل تقسیم کرنے کا فخر محسوس کرتے ہیں۔
بھارت میں پینسٹھ برس کی جمہوریت بھی بھارتی معاشرے کی سوچ میں کوئی موثر تبدیلی نہیں لا سکی ہے۔ ملک کی اکثریت اب بھی غربت اور افلاس کے شکنجے میں ہے۔
حکمراں طبقہ اپنی اجادہ داری کو برقرار رکھنے کے لیے نت نئے راستے تخلیق کر رہا ہے ۔ لیکن یہ مواصلات کا دور ہے آج ہر کوئی ہر پہلو سے باخبر ہے۔
اسی لیے بھارت میں موجودہ سیاسی نظام سے لوگ اب بدظن ہو رہے ہیں۔ سیاسی جماعتیں ابھی تک ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ وہ سارن کے 23 بچوں کی موت کی ہی نہیں ملک کی اکثریت کی غربت بے بسی اور محرومی کی مجرم ہیں۔







