بھارت: زہریلا کھانا کھانے سے 20 بچے ہلاک

بھارت کی مشرقی ریاست بہار میں ایک سکول سے خراب کھانا کھانے سے کم از کم بیس بچے ہلاک اور درجنوں بیمار ہوگئے ہیں۔
زہریلا کھانا کھانے کا یہ واقعہ ساران ضلع میں مراکھ گاؤں میں پیش آیا۔
واقعے کی تفتیشات شروع کر دی گئی ہیں اور ہلاک ہونے والے بچوں کے لواحقین کو دو لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
بھارت میں سکول میں دوپہر کے کھانے مفت فراہم کرنے کا مقصد زیادہ سے زیادہ بچوں کو سکولوں میں تعلیم کے لیے لانا تھا تاہم اس سکیم میں صفائی کا شدید مسئلہ ہے۔
اس واقعے کے بعد قریبی قصبے چھاپڑا اور ریاستی دارالحکومت پٹنا میں اٹھائیس بچوں کو بیماری کی حالت میں ہسپتالوں میں لے جایا گیا ہے۔
منگل کو دھمساتی گندمان نامی گاؤں میں ہوئے اس واقعے میں کل سینتالیس بچے بیمار ہوئے تھے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ بارہ سال سے کم عمر کے چند بچے انتہائی شدید بیمار ہیں۔
بیمار بچوں میں سے ایک کے والد راجہ یادوو نے بتایا کہ ان کا بیٹا سکول سے واپسی پر انتہائی بیمار تھا اور اسے الٹیاں آئیں جن کے بعد اس فوری طور پر ہسپتال لانا پڑا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی وجہ زہریلا کھانا کھانا تھی۔
ایک سینیئر اہلکار امرجیت سنھا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں شک ہے کہ بچوں کا کھانا زہریلا اس لیے ہوا کہ چاول یا سبزی میں کیڑے مار دوا موجود تھی۔‘
ایک اور ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ کھانا پکانے کے لیے جو تیل استعمال کیا جا رہا تھا، وہ بھی زہریلا ہو سکتا ہے۔
پٹنا میں مقیم صحافی امرناتھ تیواری کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں بچبوں کو سکولوں میں دیے گئے دوپہر کے کھانے میں زہر پائے جانے کے واقعات اس سے پہلے بھی ہو چکے ہیں۔
بہار کے وزیرِاعلیٰ نتیش کمار نے ایک ہنگامی اجلاس بلایا ہے اور ماہرین کی ایک ٹیم کو سکول بھی بھیجا ہے۔
بہار بھارت کی غریب ترین ریاستوں میں سے ایک ہے۔
بھارت میں حکام کے مطابق سکولوں میں دوپہر کے کھانے کا نظام دنیا میں کھانا فراہم کرنے کا سب سے بڑا پروگرام ہے جس کے تحت بارہ لاکھ سکولوں میں ایک کڑوڑ بیس لاکھ بچوں کو دوپہر کا کھانا دیا جاتا ہے۔
یہ پروگرام چنائی میں سنہ انیس سو پچیس میں شروع کیا گیا تھا۔







