بھارت: صدر نے سستے غذائی پروگرام کی منظوری دے دی

حکام کا کہنا ہے کہ بھارت کی مرکزی حکومت کے ذریعے ملک کی دو تہائی آبادی کے لیے کم قیمت پر غذائی اجناس فراہم کیے جانے کے وسیع پروگرام کو صدر پرنب مکھرجی نے منظوری دے دی ہے۔
دنیا کے سب سے بڑے فلاح و بہبود کے اس پروگرام کو اس سے قبل بھارتی کابینہ نے ایک آرڈینس کے ذریعے منظور کیا تھا۔
صدر پرنب مکھرجی کے دستخط کے بعد اب فوڈ سکیورٹی نامی یہ آرڈینس قانون بن گیا ہے جس کے تحت ملک کے تقریباً 80 کروڑ افراد کو ہر ماہ پانچ کلو سستا اناج فراہم کیا جائے گا۔
صدر سے منظوری کے بعد اس بل کو پارلیمان کی آئندہ اجلاس شروع ہونے کے چھ ہفتے کے اندر اس کی توثیق نہیں کی گئي تو یہ بل خارج ہو جائے گا۔
واضح رہے کہ یہ قانون پارلیمنٹ میں حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا اور اسی سبب اسے ایک آرڈینس کی شکل میں پیش کیے جانے پر وزراء کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے ایک سیاسی چال ہے اور اس سے بھارت کی معیشت پر منفی اثر پڑے گا جبکہ اس پروگرام کے حامی کہتے ہیں کہ اس سے ملک سے غربت دور ہوگی۔

حکومت کی اس حوصلہ مند سکیم کو دنیا کی سب سے وسیع فلاح و بہبود کی سکیم طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اقتصادی ماہرین یہ سوال کر رہے ہیں کہ آخر بھارت اس قدر مراعات یافتہ خوراک کی سکیم کا بوجھ کیسے برداشت کر سکتا ہے جس میں ایک کھرب 13 ارب یعنی 9۔23 ارب امریکی ڈالر خرچ ہوں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بہر حال حکومت کا موقف ہے کہ پیسہ کوئی پریشانی کا باعث نہیں ہے۔
یہ فوڈ سکیورٹی بل برسراقتدار کانگریس پارٹی کے انتخابی وعدے کا حصہ ہے۔
نامہ نگار کے مطابق اس پر عمل درآمد سے آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات میں پارٹی کو فائدہ ہوگا۔
دنیا میں بھارت ایسا ملک ہے جہاں سب سے زیادہ بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں اور یہ سکیم بھوک کو ختم کرنے کی ایک کوشش ہے۔
بھارت میں بیس کروڑ سے زیادہ لوگ غربت کے لکیر سے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں اور مہنگائی کے دور میں خوراک کا حصول ان کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔
اس بل کے تحت ایک کلو چاول تین روپے میں دستیاب ہوں گے جبکہ گندم دو روپے اور باجرہ ایک روپے فی کلو ملے گا۔
بی بی سی کے نمائندے سنجے مجمدار کا کہنا ہے کہ یہ سکیم بھارت کے دیہی علاقوں کی 75 فیصد آبادی کا احاطہ کرتی ہے جبکہ شہری علاقوں کے 50 فیصد افراد اس سے فائدہ حاصل کر سکیں گے۔







