بہار: ’زہریلے‘ کھانے سے بائیس بچے ہلاک، مظاہرے شروع

بھارت کی مشرقی ریاست بہار کے ایک سکول میں زہریلا کھانا کھانے سے بائیس بچے ہلاک اور درجنوں انتہائی نازک حالت میں ہسپتالوں میں داخل کرائے گئے ہیں۔
زہریلا کھانا کھانے کا یہ واقعہ ساران ضلع میں مراکھ گاؤں میں پیش آیا۔ ڈاکٹروں کو کہنا ہے کہ بچوں کو آرگینوفورس زہر دیا گیا ہے۔
واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور ہلاک ہونے والے بچوں کے لواحقین کو دو لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
بچوں کی ہلاکت کے بعد ریاست بہار میں لوگوں نے مظاہرے شروع کردیے ہیں۔ مظاہرین نے پولیس کی چارگاڑیوں کو نذر آتش کر دیا ہے۔ مظاہرین نے نجی املاک کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
چپڑا ڈسٹرکٹ ہسپتال کے ڈاکٹر کے ایم ڈوبی نے بتایا کہ جب بچوں کا ہسپتال لایاگیا تو ان کی حالت انتہائی خراب تھی۔ انہوں نے کہا کہ معائنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ ان کے سینے جکڑے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر ڈوبی نے کہا کہ ایسے آثار ملے ہیں کہ بچوں کو آرگینوفورس زہر دیا گیا ہو۔
آرگینوفورس ایک ایسا زیرہلا مادہ ہے جو کیڑے مار دوائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے اور اس کی معمولی مقدار بھی بچوں کے لیے انتہائی مہلک ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر ڈوبی نے بتایا کہ بچوں کی حالت دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آرگینوفورس کی بڑی مقدار ان کے جسم میں موجود تھی۔
بھارت میں سکول میں دوپہر کے کھانے مفت فراہم کرنے کا مقصد زیادہ سے زیادہ بچوں کو سکولوں میں تعلیم کے لیے لانا تھا۔ تاہم اس سکیم میں صفائی کا شدید مسئلہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس واقعے کے بعد قریبی قصبے چھاپڑا اور ریاستی دارالحکومت پٹنا میں اٹھائیس بچوں کو بیماری کی حالت میں ہسپتالوں میں لے جایا گیا ہے۔
منگل کو دھمساتی گندمان نامی گاؤں میں ہوئے اس واقعے میں کل سینتالیس بچے بیمار ہوئے تھے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ بارہ سال سے کم عمر کے چند بچے انتہائی شدید بیمار ہیں۔
بیمار بچوں میں سے ایک کے والد راجہ یادوو نے بتایا کہ ان کا بیٹا سکول سے واپسی پر انتہائی بیمار تھا اور اسے الٹیاں آئیں اور اس کو فوری طور پر ہسپتال لانا پڑا۔
ایک سینیئر اہلکار امرجیت سنھا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں شک ہے کہ بچوں کا کھانا زہریلا اس لیے ہوا کہ چاول یا سبزی میں کیڑے مار دوا موجود تھی۔‘
ایک اور ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ کھانا پکانے کے لیے جو تیل استعمال کیا جا رہا تھا، وہ بھی زہریلا ہو سکتا ہے۔
پٹنا میں مقیم صحافی امرناتھ تیواری کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں بچوں کو سکولوں میں دیے گئے دوپہر کے کھانے میں زہر پائے جانے کے واقعات اس سے پہلے بھی ہو چکے ہیں۔
بہار کے وزیرِاعلیٰ نتیش کمار نے ایک ہنگامی اجلاس بلایا ہے اور ماہرین کی ایک ٹیم کو سکول بھی بھیجا ہے۔







