’سزا یافتہ اراکین عہدوں پر رہنے کے اہل نہیں‘

سپریم کورٹ کے فیصلے کو سیاست کو جرائم سے پاک کرنے کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے
،تصویر کا کیپشنسپریم کورٹ کے فیصلے کو سیاست کو جرائم سے پاک کرنے کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے

بھارت کی عدالت عظمیٰ نے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ پارلیمان اور اسمبلی کے مجرم قرار دیے جانے والے اراکین اپنے عہدوں پر رہنے کے اہل نہیں ہوں گے۔

عدالت نے بدھ کو عوامی نمائندگی کے قانون کی دفعہ 8 (4) کو منسوخ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دفعہ جانبداری پر مبنی ہے۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اس کا فیصلہ مستقبل کے معاملات پر بھی نافذالعمل ہوگا۔

خیال رہے کہ مجرم قرار دیے جانے والے جن اراکینِ پارلیمان، اسمبلی اور عوامی نمائندوں نے عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے، ان پر یہ فیصلہ نافذ العمل نہیں ہوگا۔

دفعہ 8 (4) کے تحت مجرم ٹھہرائے جانے والے ارکانِ پارلیمان اور اسمبلی نے عدالت کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ وکیل للی تھامس اور غیرسرکاری تنظیم لوک پرہری کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سماعت کے دوران بدھ کو سامنے آیا۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ جب آئین میں کسی بھی مجرم کو ووٹر کے طور پر رجسٹرڈ ہونے، اس کے رہنما یا رکن اسمبلی بننے پر پابندی ہے، تو پھر کسی منتخب نمائندے کا مجرم ٹھہرائے جانے کے باوجود عہدے پر برقرار رہنا کس طرح قانون کے مطابق ہو سکتا ہے؟

درخواست کے مطابق اس طرح کی چھوٹ دینے سے متعلق شق جانبدار ہے اور اس سے سیاسی جرائم کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

قانونی معاملات کے ماہر سبھاش کشیپ بھارتی سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کو تاریخی مانتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’یہ ایک تاریخی اور اہم فیصلہ ہے۔سپریم کورٹ کو یہ فیصلہ لینا پڑا۔ہم لوگ مسلسل اس بارے میں آواز اٹھا رہے تھے، لکھ رہے تھے لیکن بدعنوان نظام کو برقرار رکھنے کے لیے پارلیمان کے اندر تمام سیاسی جماعتوں کے اپنے مفادات ہیں اس لیے سپریم کورٹ کو یہ فیصلہ لینا پڑا‘۔

انھوں نے کہا ’اب تک کے انتظامات کے تحت اگر کوئی شخص مجرم قرار دیا جاتا ہے تو وہ انتخاب نہیں لڑ سکتا لیکن پارلیمان اور ممبر اسمبلی بننے کے بعد عوامی نمائندے کسی معاملے میں مجرم ثابت ہوتے تھے تو وہ تین ماہ کے اندر اپیل دائر کر سکتے تھے۔ ایسے میں وہ وزیر، رکن اسمبلی یا پارلیمان میں اپنے عہدے پر برقرار رہتے تھے۔

کشیپ مانتے ہیں کہ یہ کافی متضاد صورت تھی، اس نئے فیصلے سے اس پر پابندی عائد ہو گی اور اب ایسا نہیں ہو سکے گا۔