اتراکھنڈ سیلاب:تین ہزار افراد تاحال لاپتہ

فوجی دور دراز علاقوں میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کی کوشش میں جنگی پیمانے پر جٹے ہوئے ہیں
،تصویر کا کیپشنفوجی دور دراز علاقوں میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کی کوشش میں جنگی پیمانے پر جٹے ہوئے ہیں

بھارت کی شمالی ریاست کے اتراکھنڈ وزیراعلیٰ وجے بہوگنا کا کہنا ہے کہ سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں اب بھی تین ہزار کے قریب افراد لاپتہ ہیں۔

بارشوں اور سیلاب میں آٹھ سو سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے لیکن وزیراعلیٰ وجے بہوگنا کے مطابق ہلاکتوں کی اصل تعداد کے بارے میں شاید ہی کبھی معلوم ہو سکے۔

اطلاعات کے مطابق بدری ناتھ کے علاقے میں اب بھی سینکڑوں افراد پھنسے ہوئے ہیں جبکہ ایک لاکھ سے زائد افراد کو متاثرہ علاقوں سے نکالا گیا ہے۔

بھارت کے سرکاری خبررساں ادارے پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ وجے بہوگنا نے کہا کہ’ہمیں یہ معلوم نہیں ہو سکے گا کہ کتنی ہلاکتیں ہوئیں، کتنے لوگ ملبےتک دبے ہوئے ہیں یا پانی میں بہہ گئے۔‘

’میری معلومات کے مطابق اب بھی تین ہزار لوگ لاپتہ ہیں،ہم نے ان افراد کے اہلخانہ کی مالی مدد کی ہے اور انہوں نے ہمیں تحریری بیان دیا ہے کہ ان کے پیارے تیس سے زیادہ دن ہو گئے ہیں،گھروں کو واپس نہیں آئے ہیں۔‘

ریاست کے دارالحکومت دہرہ دون میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ اپنے پیاروں کی تصویروں کے ساتھ جمع ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بارشوں سے بری طرح متاثر ہونے والے علاقے بدری ناتھ میں نو سو ہندو زائرین پھنسے ہوئے ہیں اور پیر کو انہیں وہاں سے نکالنے کے لیے امدادی آپریشن شروع کیا جائے گا۔

بھارت ناگہانی آفات سے نمٹنے کے محکمے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے وزیر نے کہا تھا کہ اچانک آ جانے والے سیلاب کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتیں ہزار سے زیادہ ہو سکتی ہیں۔

لاپتہ افراد کے اہلخانہ اپنے پیاروں کے انتظار میں ریاستی دارالحکومت میں جمع ہیں
،تصویر کا کیپشنلاپتہ افراد کے اہلخانہ اپنے پیاروں کے انتظار میں ریاستی دارالحکومت میں جمع ہیں

دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ اب چونکہ بدری ناتھ میں کم لوگ بچ گئے ہیں اس لیے اب امدادی سرگرمیوں کا محور رودرپریاگ، چمولی اور اترکاشی کے اضلاع ہیں۔

دریں اثنا ندیوں میں پانی کی سطح میں اضافہ درج کیا جا رہا ہے۔

بھارت کے موسمیات کے شعبے نے بتایا ہے کہ یہ اضافہ گلیشیئر کے پگھلنے کے سبب ہے۔

یاد رہے کہ یہ سیلاب جون کی 16 تاریخ کو آیا تھا۔ ریاست کے وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ آثارِ قدیمہ کے محکمے کو اس سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔