سربجیت کی زندگی اور موت کے مختلف پہلو

سربجیت کی موت پر بھارت میں غیر معمولی رد عمل دیکھنے کو ملا
،تصویر کا کیپشنسربجیت کی موت پر بھارت میں غیر معمولی رد عمل دیکھنے کو ملا

سربجیت سنگھ تو اب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن ان کی ہلاکت کے بعد بھارت میں جو غیرمعمولی رد عمل سامنے آیا ہے اس نے ان کی زندگی اور موت کے معمّے کو اور الجھا دیا ہے۔

سربجیت کی زندگی اور موت کے دو پہلو ہیں۔ ایک وہ جو ہم جانتے ہیں اور دوسرا وہ جو صیغہ راز میں ہے یا ممکنہ طور پرجس کا وجود ہی نہیں۔

تو سربجیت سنگھ کون تھے؟ وہ یا تو ایک معمولی کسان یا مزدور تھے جو شراب کے نشے میں سرحد پار کرکے پاکستان پہنچ گئے۔ وہاں انہیں گرفتار کر کے ایک جھوٹے مقدمےمیں پھنسا دیا گیا۔

یا پھر وہ شراب کے معمولی سمگلر تھے جیسا کہ اخباری اطلاعات کے مطابق انہوں نے اپنی گرفتاری کے بعد پاکستانی پولیس کو بتایا۔ لیکن برصغیر میں پولیس کسی سے کوئی بھی جرم قبول کروا سکتی ہے لہذا اس بیان کی صداقت پر پوری طرح انحصار نہیں کیا جاسکتا۔

اور تیسرا یہ کہ وہ ممکنہ طور پر بھارتی جاسوس تھے جنہوں نے پاکستان میں بم دھماکے کیے اور اس جرم کے لیے انہیں سزائے موت سنائی گئی۔ ان کا مقدمہ سپریم کورٹ تک گیا اور بعد میں صدر مشرف نے ان کی رحم کی اپیل مسترد کی۔ یعنی اگر ان پر بم دھماکوں کا الزام درست تھا تو وہ ایک’دہشت گرد‘ تھے۔

لیکن وہ خود ہمیشہ اپنی بے گناہی کا دعوی کرتے رہے اور ظاہر ہےکہ حکومت ہند نے کبھی انہیں اپنا جاسوس تسلیم نہیں کیا۔

اب دو سوال اٹھتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ انہیں کیوں قتل گیا، اس کا جواب شاید اس عدالتی انکوائری سے مل جائے جس کا پاکستانی پنجاب کے وزیر اعلی نے حکم دیا ہے۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ پاکستان کی جیل میں بند ایک بھارتی قیدی سے قومی ہیرو تک کا سفر انہوں نے کب طے کیا۔

جہاں تک مجھے معلوم ہے جیل میں قاتلانہ حملے سے پہلے یہ اعزاز انہیں کبھی نہیں دیا گیا تھا۔ سربجیت سنگھ کے ساتھ زیادتی ہوئی اس سے تو کوئی انکار نہیں کر سکتا۔

ان کے خاندان کے غم میں شریک ہونا انسانیت کا تقاضہ ہے لیکن ان کی موت کی خبر آنے کے بعد جو کچھ انڈیا میں ہوا ہے اسے سمجھنا بھی آسان نہیں ہے۔

تو گزشتہ ایک ہفتے میں ایسا کیا ہوا کہ: وزیر اعظم نے انہیں ’بھارت کا بہادر لعل‘ قرار دیا۔ ان کی لاش لانے کے لیے خصوصی طیارہ روانہ کر دیا گیا۔

ملک کی اعلی قیادت ان کے پسماندگان سے ملنے کے لیے قطار لگا کر کھڑی ہوئی، پنجاب کی حکومت نے ان کی آخری رسومات کے لیے مکمل سرکاری اعزاز اور ان کے اہل خانہ کے لیے ایک کروڑ روپے کی مالی اعانت کا اعلان کیا۔

ان کی بیٹیوں کو سرکاری نوکریاں دینے کا وعدہ کیا گیا اور اب ریاست پنجاب میں تین دن تک سرکاری سوگ منایا جائےگا۔

عام طور پر یہ سب ان لوگوں کے لیے کیا جاتا ہے جنہوں نے قوم کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہوں، کسی کاز کے لیے لڑے ہوں، ملک کے دفاع کے لیے لڑتے ہوئے اپنی جان قربان کردی ہو۔

لیکن ہمیشہ نہیں۔ کیونکہ اس ملک میں جمہوریت ہے جو سیاست سے چلتی ہے اور سیاست موقع پرستی سے کبھی زیادہ دور نہیں ہوتی۔ اس لیے دسمبر میں جب ایک معصوم لڑکی کے گینگ ریپ اور قتل نے قوم کے ضمیر کو جھنجوڑا اور مشتعل لوگ سڑکوں پر اتر آئے تو ریاستی اور وفاقی حکومتوں نے اعانت کے لیے سرکاری خزانے کے دروازے کھول دیے۔

لیکن جب ریپ کا شکار بننے کے بعد پانچ چھ سال کی دو معصوم بچیاں دلی کے ہی صفدرجنگ ہسپتال میں زیر علاج تھیں تو انہیں دیکھنے کوئی نہیں پہنچا۔

ان کا علاج سرکاری ہسپتال کے گندے بستروں پر ہی ہوا اور پھر ان کے بے بس ماں باپ انہیں اپنی گمنام زندگیوں میں واپس لے گئے۔

سربجیت سنگھ کی موت پر رنج و غم کا اظہار تو سمجھ میں آتا ہے لیکن یہ نہیں کہ ان کی زندگی کسی بھی دوسرے عام ہندوستانی کی زندگی سے کیوں زیادہ قیمتی تھی؟