وکی لیکس: راجیوگاندھی سے متعلق نئے انکشافات

وِکی لیکس کے مطابق امریکی سفارتی مراسلوں سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت کے سابق وزیراعظم راجیوگاندھی نے ممکنہ طور پر ایک سویڈش دفاعی کمپنی کے ایجنٹ کے طور پر کام کیا تھا۔
وِکی لیکس کے پارٹنر بھارت کے روزنامہ ’دی ہندو‘ نے امریکہ کے سابق وزیر خارجہ ہنری کسنجر کو بھیجے گئے مراسلات کے ضمن میں لکھا ہے کہ سویڈین کی کمپنی ساب ایکسینا سے بعض جنگی جہازوں کی خریداری میں ’اصل بھارتی مذاکرات کار‘ راجیو گاندھی تھے۔
یہ واقعہ 1970 کے عشرے کا ہے۔ اس وقت راجیو گاندھی کی ماں اندرا گاندھی وزیراعظم تھیں۔ راجیو گاندھی اس وقت انڈین ایئر لائنز میں پائلٹ تھے، لیکن بھارت کی حکومت سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔
بھارت کی وزارت دفاع سویڈیش کمپنی سے 50 سے 55 طیارے خریدنا چاہتی تھی۔ امریکی سفارتی مراسلوں کے مطابق ان طیاروں کے لیے راجیو گاندھی مذاکرات کار کے طور بات چيت کر رہے تھے۔
یہ سودا کامیاب نہیں ہوسکا۔ اندرا گاندھی کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد مرار جی دیسائی کی حکومت بن گئی تھی اور اس نے برطانیہ سے جیگوار طیارے خرید لیے تھے۔
دلی میں ہمارے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق وکی لیکس نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ راجیو گاندھی کے دفاعی سودے کے ایجنٹ ہونے کی بات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔اخبار کے مطابق ان مراسلوں سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ دفاعی بات چيت میں کوئی لین دین شامل تھا یا نہیں۔
حکمراں کانگریس پارٹی نے وکی لیکس کے انکشافات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ اس کہنا ہے کہ وکی لیکس کوئي معتبر ذریعہ نہیں ہے۔
واضح رہے کہ جب راجیو گاندھی وزیر اعظم تھے تو ان پر اس بات کا الزام عائد کیا گيا تھا کہ انھوں نے سویڈن سے جو بوفورز توپوں کی خریداری میں کمیشن حاصل کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ الزام ان کی کابینہ کے ایک وزیر نے بھی لگایا تھا اور پھر ان کے خلاف زبردست مہم چلی تھی جس کے بعد عام انتخابات میں ان کی پارٹی ناکام ہوگئی تھی۔







