
افتتاحی اجلاس سے جلاوطن تبتی رہنما دلائی لاما خطاب کریں گے
بھارتی ریاست ہماچل پردیش کے دھرم شالہ میں جلا وطن تبتی رہنماؤں کا ایک خصوصی اجلاس منعقد ہو رہا ہے جس میں کئی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق منگل کو شروع ہونے والے اس اجلاس میں تبت میں خود سوزی کے بڑھتے واقعات پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
تین روز تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں دنیا بھر سے تبت کے تقریباً چار سو نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔
پچيس سے اٹھائیس ستمبر کے درمیان ہونے والے اس اجلاس میں اس بات پر بھی غور ہوگا کہ چین کی نئی قیادت کے ساتھ تبت کے مسئلے پر بات چيت کے لیے کیا حکمت عملی اپنائی جائے۔
بھارتی خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق جنرل میٹنگ کا فیصلہ بھارت میں جلا وطن تبتی کابینہ اور پارلیمان نے مشترکہ طور پر اس ماہ کی چودہ اور پندرہ تاریخ کو اپنی ایک اہم اجلاس میں کیا تھا۔
تبت کی پارلیمان کے سپیکر پینپا ٹیسرنگ کا دعویٰ ہے کہ پچاس سے زیادہ تبتّیوں نے خود سوزی کی ہے اور ان کے اہل خانہ انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔
چین کی نئی قیادت
" یہ بالکل بھی واضح نہیں ہے کہ چین کی نئی قیادت تبت کے موجودہ بحران سے کیسے نمٹے گی یا پھر وہ تبت کے مسئلے کے حل کے لیے کیا موقف اختیار کریگی"
پینپا ٹیسرنگ
ان کا کہنا تھا کہ چین کی حکومت نے خود سوزی کی اصل وجوہات کا پتہ کرنے کے بجائے فوجی کارروائیاں کر کے تبت میں لوگوں کو ایسے اقدامات پر مزید اکسایا ہے۔
پینپا ٹریسنگ نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ’یہ بالکل بھی واضح نہیں ہے کہ چین کی نئی قیادت تبت کے موجودہ بحران سے کیسے نمٹے گی یا پھر وہ تبت کے مسئلے کے حل کے لیے کیا موقف اختیار کریگی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جلا وطن تبتی لوگ تبت کے مسئلے کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرانے کے لیے اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔
پینپا ٹریسنگ کے مطابق ’چونکہ تبت کے مسائل پر عالمی برادری کی جانب سے اب تک کوئي خاطر خواہ قدم نہیں اٹھایا گيا اس لیے ہمیں اپنی تحریک کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔‘






























