سرحدی تنازع پر بھارت چین مذاکرات

 چین اور بھارت نے سرحدی تنازعہ پر دلی میں کچھ روز پہلے بھی بات چیت کی تھی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن چین اور بھارت نے سرحدی تنازعہ پر دلی میں کچھ روز پہلے بھی بات چیت کی تھی

بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازع سے متعلق ہونے والی بات چيت کے موقع پر دارالحکومت دلی میں تبت کے لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

چینی وزیر خارجہ گزشتہ روز بھارت کے دوروزہ دورہ پر دلی پہنچے تھے اور انہوں نے جمعرات کو سرحدی تنازع سے متعلق اپنے بھارتی ہم منصب ایس ایم کرشنا سے بات چیت کی۔

ایس ایم کرشنا نے جمعرات کو میڈیا سے بات چيت میں کہا کہ چینی ہم منصب سے ان کی گفت و شنید اچھے ماحول میں ہوئي۔ تمام امور پر بات چیت ہوئی اور آئندہ بھی بات چيت کے لیے ملاقات ہوتی رہے گی۔

یہ بات چيت دلی کے حیدرآباد بھون میں ہوئی جس کے باہر جلا وطن تبتیوں نے سرحدی تنازع پر چین کی مخالفت میں مظاہرہ کیا۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں پلےکارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر چین مخالف نعرے درج تھے۔

بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق مظاہرے میں شامل ایک شخص کا کہنا تھا کہ تبت کی آزادی سے پہلے سرحدی تنازع پر بات چیت بے معنی ہے۔ ’ہمیں آزاد کرنے سے پہلے چین کے لیے سرحدی تنازع پر بات چيت لایعنی ہے۔‘

تبت کی آزادی کا مطالبہ کرنے والے جلا وطن تبت کے شہری حیدرآباد بھون کی طرف آئے نعرے بازی کرتے ہوئے بڑھے تاہم اس علاقے میں پولیس نےمظاہرین کو حراست میں لے لیا جبکہ دیگر کو منشتر کر دیا۔