
چین کے کنٹرول کے خلاف احتجاج میں گزشتہ ایک برس میں کم از کم تیس افراد خودسوزی کر چکے ہیں۔
چین کےصدر ہو جنتاؤ کے بھارت کے دورے کے خلاف دلی میں احتجاج کے دوران ایک تبتی پناہ گزین نے خود سوزی کر لی ہے ۔
بھارت کی پارلمینٹ سے محض چند سو گز کی دوری پر چین کے خلاف ہونے والے اس مظاہرےکے دوران 27 سالہ جن پھیل یاشی نے اپنے اوپر تیل چھڑک کر آگ لگا لی۔
عینی شاہدوں کے مطابق یاشی کے پورے جسم میں آگ لگی ہوئی تھی اور وہ گرنے سے پہلے تقریباً پچاس گز تک دوڑا ۔ اسے انتہائی جلی ہوئی حالت میں ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
تقریباً چھ سو تبتی پناہ گزینوں نے پیر کے روز ایک احتجاجی ریلی نکالی۔ وہ اپنے ہاتھوں میں تختیاں اور بینرز لیے ہوئے تھے جن پر لکھا ہو ا تھا ’تبت جل رہا ہے‘ اور ’تبت چین کا حصہ نہیں ہے۔‘
جس وقت مقررین نے چینی صدر کے دورے کے خلاف تقریریں شروع کیں اس وقت جن پھیل یاشی نے خود کو آگ لگا لی ۔ احتجاجیوں نے بینر سے آگ بجھانے کی کوشش کی ۔کچھ نے پانی ڈال کر آگ بجھائی بھی۔
چینی صدر ہو جنتاؤ 28 -29 مارچ کو دلی میں برازیل، روس، چین، بھارت اور جنوبی افریقہ کی تنظیم ’برکس‘ کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے دلی آ رہے ہیں۔
چین کے تبتی خطے میں چین کے کنٹرول کے خلاف احتجاج کے دوران گزشتہ ایک برس میں کم از کم تیس افراد خود سوزی کر چکے ہیں۔ بھارت میں مقیم تبتیوں کے روحانی پیشوا دلائی لامہ خود سوزی کے ان واقعات کے لیے ’چین کی جابرانہ پالیسی‘ کوذمہ دار قرار دیتے ہیں جبکہ چین دلائی لامہ پر ’بے چینی‘ کو ہوا دینے کا الزام لگاتا رہا ہے ۔

2012 میں برکس ممالک کا سربراہ اجلاس دہلی میں ہو رہا ہے
چین کا کہنا ہے کہ تبت ہمیشہ چین کا حصہ رہا ہے جبکہ تبتی باشندوں کا کہنا ہے کہ یہ ہمالیائی خطہ صدیوں سے ایک آزاد خطہ رہا ہے۔ تبت پر چین کے قبضے کے بعد کئی عشرے سے ہزاروں تبتی پناہ گزینوں نے بھارت میں پناہ لے رکھی ہے۔
پیر کو ہونے والا واقعہ حالیہ مہینوں میں دلی میں خود سوزی کادوسرا واقعہ تھا۔ گزشتہ برس ایک تبتی نوجوان نے چینی سفارتخانے کے سامنے خود سوزی کی تھی ۔ تاہم اسے بری طرح جلنے سے سے بچا لیا گیا تھا۔
ایک تبتی احتجاجی نے آج کی خود سوزی پر کہا ’جب تک چین تبت کو آزاد نہیں کرتا اسے اسی طرح کے احتجاج کا سامنا رہے گا۔‘
دلی پولیس ’برکس‘ کے سربراہی اجلاس کے دوران تبتی پناہ گزینوں کی طرف سے اسی طرح کے احتجاج اور خود سوزی کے واقعات کا سامنا کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
چین کے صدر جس ہوٹل میں ٹھہریں گے اس کے اطراف میں پہلے سے ہی حفاظتی انتظامات سخت کیے جا رہے ہیں اور میٹنگ سے ایک روز قبل ہوٹل کے راستوں کو عام لوگوں کے لیے بند کر دیا جائے گا۔
چین کے سفارتخانے کے اطراف میں بھی خاردار تار لگا دیۓ گئے ہیں اور وہاں بڑے پیمانے پر پولیس تعینات کی جا رہی ہے۔ میٹنگ کے دوران سفارتی علاقے میں کسی طرح کے مظاہرے کی اجازت نہیں ہو گی اور اگر کسی نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تو اسے میٹنگ کے مقام اور سفارتخانے سے کئی کلو میٹر دور ہی روک دیا جائے گا۔






























