بھارت:تمام متاثرہ ریاستوں میں بجلی بحال

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بھارت میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن سے متاثرہ تمام علاقوں میں سپلائی بحال کر دی گئی ہے۔
یہ بحران منگل کی دوپہر شمالی گرڈ کی بندش سے شروع ہوا جس کا اثر دارالحکومت دلی سمیت پنجاب، راجستھان، اترپردیش، جموں و کشمیر اور ہریانہ پر پڑا جہاں بجلی کی سپلائی مکمل طور پر بند ہو گئی۔
اسی دوران مشرقی گرڈ کے بھی بند ہونے کی بھی خبر آئی جس سے کئی گھنٹے تک مغربی بنگال کے کچھ علاقوں، اڑیسہ، جھارکھنڈ اور بہار میں بجلی بند رہی۔
ان دونوں گرڈز کے کچھ دیر بعد ہی شامل مشرقی گرڈ بھی ٹرپ کر گیا اور ایک وقت ایسا آیا جب بھارت کی اٹھائیس میں سے بیس ریاستیں اور وہاں کے رہائشی ساٹھ کروڑ کے قریب عوام بجلی سے محروم تھے۔
بھارت کی پاور گرڈ کارپوریشن کے مطابق اس صورتحال میں ہنگامی بنیادوں پر بحالی کا کام شروع کیا گیا اور منگل کی رات تک حالات پر بہت حد تک قابو پا لیا گیا۔
ادارے کے مطابق ابتدائی طور پر منگل کی شب ساڑھے آٹھ بجے تک شمال مشرقی گرڈ کو مکمل طور پر بحال کر دیا گیا جبکہ دلّی میں نوے فیصد علاقوں میں بجلی سپلائی کی جانے لگی تھی۔
پاورگرڈ کارپوریشن کے حکام کے مطابق رات ساڑھے گیارہ بجے تک شمالی گرڈ میں پچھہتر فیصد جبکہ جبکہ مشرقی گرڈ کے چالیس فیصد حصوں میں بجلی بحال کر دی گئی تھی اور بدھ کی صبح تک تمام علاقوں کو بجلی کی فراہمی شروع کر دی گئی۔
خیال رہے کہ شمالی گرڈ چوبیس گھنٹے میں دوسری مرتبہ بند ہوا۔ اتوار کو گرڈ کی بندش سے نو ریاستیں کئی گھنٹے تک بجلی سے محروم رہی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بجلی کی معطلی سے دارالحکومت دلی میں میٹرو ریل سمیت ملک کے کئی حصوں میں ریل کا نظام متاثر ہوا اور تقریباً تین سو ٹرینوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہAP
ریلوے کے ترجمان انیل سكسینا نے بتایا کہ گرڈ کے بند ہونے کا اثر ریلوے پر پڑا تاہم فوری طور پر علاقائی حکام نے انجینئروں کے ساتھ مل کر ریلوے کے اپنے بیک اپ کو سپلائی کے لیے استعمال کیا۔ اس کے علاوہ ہریانہ سے بجلی ملنے کی وجہ سے دہلی آگرہ ممبئی ریل راستے کو بحال کیا گیا۔
منگل کی شب ٹی وی پر ایک بیان میں بھارت کے وزیرِ توانائی سشیل کمار شندے نے کہا ہے کہ گرڈ بند ہونے کی وجہ بعض ریاستوں کا قومی گرڈ سے اپنے حصے سے زیاد بجلی لیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ریاستوں سے پہلے بھی ایسا نہ کرنے کی اپیل کر چکے ہیں اور انہوں نے حکام کو ایسی ریاستوں کے خلاف کارروائی کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
تاہم ریاست اترپردیش میں حکام کا کہنا ہے کہ ایسا ماننے کی کوئی وجہ نہیں کہ اس خرابی کی وجہ وہ ہیں۔ بجلی کی فراہمی کے ریاستی ادارے کے سربراہ انیل گپتا کا کہنا ہے کہ معاملے کی اصل وجہ کا پتہ چلانے کے لیے تحقیقات کی جانی چاہیئیں۔
بھارتی نجی ٹی وی این ڈی ٹی وی کے مطابق ریاست ہریانہ کے وزیرِ بجلی کیپٹن جے سنگھ کا کہنا ہے کہ صرف ان کی ہی ریاست نے گرڈ سے زیادہ بجلی نہیں لی۔ انہوں نے کہا ’ہمیں اس تکنیکی خرابی کے لیے ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں جو گرڈ کی بندش کی وجہ بنی۔ ہم پر اس چیز کا الزام لگ رہا ہے جو سبھی کرتے ہیں‘۔
خیال رہے کہ بھارت میں توانائی کی شدید قلت ہے اور ملک کے بہت سے حصوں میں چھ گھنٹے بھی بجلی نہیں پہنچتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک اس شعبہ میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری نہیں ہوتی اس وقت تک بجلی کی کمی کو پورا کرنا مشکل ہوگا۔







