بھارت: ماروتی پروڈکشن بند کرنے کا فیصلہ

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارت کی کار بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ماروتی سوزوکی انڈیا لمیٹڈ نے مانیسر والا اپنا پلانٹ اس وقت تک بند کر دینے کا فیصلہ کیا ہے جب تک گذشتہ دنوں ہونے والے تشدد کے واقعات کی جانچ مکمل نہیں ہو جاتی اور تشدد کے اسباب کا پتہ نہیں چل جاتا۔
ماروتی سوزوکی کی کار فیکٹری بھارت کے دارالحکومت دلی کے قریب ہریانہ کے شہر منیسر میں واقع ہے جہاں بدھ کے روز ہونے والے تشدد اور آگ زنی کے واقعات میں ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا جبکہ اسّی لوگ زخمی ہوئے تھے۔ ان میں دو جاپانی شہری بھی شامل تھے۔
مرنے والے کی شناخت ماروتی کے ہیومن ریسورس منیجر کے طور پر ہوئی تھی۔
دلی میں اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کمپنی کے چیئرمین آر سی بھارگو نے کہا کہ کمپنی کے لیے سب سے اہم منیجروں اور مزدورں کی حفاظت ہے۔
’ہم پروڈکشن شروع کرنے کی کوشش میں نہیں ہیں۔ ہم اپنے لوگوں کو مزید خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔‘
انھوں نے مزدوروں پر ظلم کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’نوے سے زیادہ عہدیداروں کو اس میں چوٹیں آئی ہیں جبکہ کوئی بھی مزدور اس میں زخمی نہیں ہوا ہے۔اس سے آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔‘
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ کام از سر نو شروع کرنے کے لیے کسی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔
انھوں نےکہا کہ ’ہم ان تشدد کے واقعات کے اسباب جاننا چاہتے ہیں اور جب تک یہ معلوم نہیں ہوں گے اصلاح نہیں ہو سکے گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کمپنی کو ہونے والے نقصانات سے زیادہ کمپنی میں کام کرنے والے افراد کی جان کو اہمیت دی ہے۔
انھوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ جس دن تشدد کے یہ واقعات ہوئے ہیں اس دن مزدور یونین اور کمپنی انتظامیہ کے درمیان بات چیت میں ساری باتیں طے ہو چکی تھیں اور ان کے درمیان سمجھوتہ ہو چکا تھا۔
ماروتی بھارت میں کار بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ہے اور اسے مارکیٹ کا چالیس فیصہ سے زیادہ حصہ حاصل ہے۔
ملازمین کا الزام ہے کہ ایک مینجر نے ان کے ایک ساتھی کے ساتھ بدسلوکی کی تھی جس کی وجہ سے جھگڑا شروع ہوا۔ لیکن فیکٹری کی انتظامیہ اس الزام کو مسترد کرتی ہے۔
اس فیکٹری میں گزشتہ برس بھی کافی کام بند رہا تھا اور تب سے ہی ورکروں اور انتظامیہ کے درمیان کشیدگی جاری ہے۔







