بھارت کی معیشت میں کمزوری کے آثار

پرنب مکھر جی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنپرنب مکھر جی کو حکمراں اتحاد کانگریس نے صدر جمہوریہ کے لیے اپنا امیدوار نامزد کیا ہے

بھارت کے وزیر خزانہ پرنب مکھر جی نے بھارتی معیشت کے متعلق تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بازار کی موجودہ حالت میں سدھار لانے کے لیے سوموار کو چند اقدامات کا اعلان کرےگی۔

انہوں نے کہا کہ اس سمت میں کیا اقدام کیے جانے چاہیے اس کے لیے وزارت خزانہ نے آر بی آئی یعنی بھارتی ریزرو بینک کے گورنر ڈی سبّا راؤ سے اس معاملے میں بات چیت کی ہے۔

پرنب مکھر جی نے کہا:’ہم اس معاملے میں چند اقدامات لیں گے لیکن اس کے بارے میں سوموار کو اعلان کیا جائے گا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اس سے بازار کے حالات میں بہتری آئے گی۔‘

وزیر خزانہ نے کہا:’جی ڈی پی کی شرح فی الحال چھ اعشاریہ پانچ فی صد ہے۔ فی الوقت مہنگائی کا زبردست دباؤ ہے اور روپے کی قیمت میں گراوٹ آ رہی ہے ۔ اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستانی معیشت میں کمزوری کے آثار نظر آ رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر فکر مند تو ضرور ہیں لیکن پریشان نہیں ہیں۔

اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’جس زمانے میں پوری دنیا میں ہلچل مچی ہوئی ہو ایسے میں بھارت جیسی بڑی معیشت ان سے بے بہرہ نہیں رہ سکتی ہے۔‘

پرنب مکھر جی نے کہا کہ ہندوستانی معیشت بنیادی طور پر مضبوط ہے اور اسی سال جنوری سے جون کے درمیان ‏غیر ملکی اداروں کی سرمایہ کاری آٹھ ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

واضح رہے کہ پرنب مکھر جی کو حکمراں اتحاد کانگریس نے صدر جمہوریہ کے لیے اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ چوبیس جون کو وزیر خزانہ کے عہدے سے مستعفیٰ ہو جائیں گے۔ بھارت میں صدر جمہوریہ کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی تیس جون تک داخل کیے جائیں گے اور اس کے لیے انیس جولائی کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اور نتیجوں کا اعلان بائیس جولائی کو ہوگا۔