بھارت: عبدالکلام صدارتی دوڑ سے باہر

بھارت کے سابق صدر اے پی جے عبدالکلام نے آئندہ صدارتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کر دیا ہے۔
دلی میں ان کی طرف سے جاری ایک مختصر سے بیان میں کہا گيا ہے کہ موجودہ سیاسی صورت حال کے پس منظر میں وہ صدارتی انتخاب سے دستبردار ہوتے ہیں۔
اس سے پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئر رہنما لال کرشن اڈوانی نے ان سے ملاقات کی تھی اور ان سے حزب اختلاف کے محاذ این ڈی اے کا امیداور بننے کی گزارش کی تھی۔
خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق عبدالکلام نے لال کرشن اڈوانی کو بتایا ہے کہ ان کا ضمیر صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے رضامند نہیں ہے۔
حکمراں محاذ یو پی اے نے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کو اپنا صدراتی امیدوار بنایا ہے اور ابھی تک ان کے مقابلے میں کوئي دوسرا امیدوار سامنے نہیں آیا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں حزب اختلاف کا قومی جمہوری محاذ این ڈی اے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کرسکا ہے کہ آیا وہ پرنب مکھرجی کی حمایت کرےگا یا پھر اپناخود امیدوار کھڑا کرےگا۔
این ڈي اے محاذ میں اس مسئلے پر اختلافات پائے جاتے ہیں اور امکان اس بات کا تھا کہ اگر کلام راضی ہوں تو محاذ کی سبھی جماعتیں ان کے نام پر متفق ہوسکتیں ہیں۔
لیکن ان کے انکار کے بعد این ڈی اے کے لیے اب یہ مسئلہ اور پیچیدہ ہوگيا ہے۔ حکمراں محاذ یو پی اے کی اتحادی جماعت ممتا بینرجی نے بھی عبدالکلام کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
موجودہ صدر پرتیبھا پاٹل سے پہلے عبدالکلام بھارت کے صدر تھے اور انہیں بی جے پی کے دور اقتدار میں اس عہدے پر فائز کیا گیا تھا۔
این ڈی اے کے پاس اب غور کرنے کے لیے دوسرا نام پارلیمان کے سابق سپیکر پی اے سنگما کا ہے لیکن محاذ میں شامل بعض جماعتیں ان کی حامی نہیں ہیں۔
این ڈي اے میں شامل ایک جماعت بیجو جنتا دل نے لوک سبھا کے سابق سپیکر پورنو سنگما کو صدارتی امیدوار کے لیے کھڑا کرنے کی حمایت کی تھی اور تمل ناڈو کی وزیراعلی جے للتا پہلے ہی سنگما کی حمایت کر چکی ہیں۔ لیکن دیگر این ڈی اے جماعتوں کو اس پر اپنا موقف واضح کرنا ہے۔
مسٹر سنگما کا تعلق نیشنلسٹ کانگریس پارٹی سے ہے جو حکمراں اتحاد کا ایک حصہ ہے۔ این سے پی کانگریس پارٹی کے امیدوار کی حمایت کر چکی ہے اور وہ مسٹر سنگما کے حق میں نہیں ہے۔
این سی پی کے سربراہ شرد پوار نے مسٹر سنگما اپنا نام واپس لینے کو بھی کہا تھا لیکن خود مسٹر سنگما بضد ہیں اور این ڈی اے کی جماعتوں سے اپنی حمایت کے لیے کوشاں ہیں۔ قیاس آرائیاں یہ بھی ہیں کہ این ڈی اے پرنب مکھرجی کی حمایت کرسکتا ہے۔







