بیت الخلاء نہ ہونے پر دلہن روٹھ گئی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے رتن پور گاؤں میں ایک خاتون نے شادی کے دو دن بعد ہی شوہر کا گھر محض اس لئے چھوڑ دیا کیونکہ وہاں بیت الخلا نہیں تھا۔
بی اے سالِ دوئم کی طالبہ انیتا نعرے کی شادی شِورام نامی شخص سے ہوئی تھی لیکن دو دنوں کے بعد ہی وہ میکے چلی گئیں اور آٹھ دن بعد بیت الخلا بننے کے بعد ہی وہ واپس آئی۔
انیتا کے اس اقدام پر سماجی بہبود کی تنظیم سُولابھ انٹرنیشنل نامی نے اسے پانچ لاکھ کی رقم دینے کا اعلان کیا ہے۔
انیتا نے شِورام سے کہا تھا کہ وہ خاندان کے باقی لوگوں کی طرح حاجت کی لیے کُھلے کھیتوں میں نہیں جائے گی ’کیونکہ ایسا کرنا غلط بات ہے‘۔
اس کا کہنا تھا کہ ’جب تک شِورام بیت الخلاء تیار نہیں کرواتے، وہ واپس نہیں آئے گی۔‘
بائیس سالہ شِورام مزدوری کرکے گھر کا خرچ چلاتے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا کہ اپنی بیوی کی بات سن کر انہیں ایسا لگا کہ ان میں ایک نئی آگہی پیدا ہوئی ہے۔
شِورام کہتے ہیں ’ہم بیت الخلاء بنانے کے بارے میں ہمیشہ سوچتے تھے لیکن روپے کی کمی کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکے۔‘
شِورام کے والد نہیں ہیں اور گھر کا خرچ مشکل سے چلتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن بیوی کے اس قدم کی وجہ سے شورام نے پنچائیت کا رخ کیا۔ انہیں پانچ سو ایک روپے دیے گئے۔ باقی کے دو ہزار روپے کا انتظام گھر سے کر کے انہوں نے ایک بیت الخلاء تعمیر کیا۔
جلد ہی یہ کہانی قریبی دیہاتوں میں بھی پہنچ گئی اور دوسرے خاندانوں نے بھی بیت الخلاء بنوانا شروع کردیا۔
انیتا کہتی ہیں کہ انہیں یہ بات معلوم تھی کہ شِورام کے گھر میں بیت الخلا نہیں ہے لیکن انہیں لگا تھا کہ شادی کے بعد شِورام اسے بنوا لیں گے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔
انیتا کہتی ہیں ’بہو، بیٹیوں کو حاجت کے لیے باہر جانا اچھا نہیں لگتا۔‘
شادی کے دو دن تو جیسے تیسے گزرے لیکن پھر انیتا سے سہا نہیں گیا اور انہوں نے شِورام سے براہ راست الفاظ میں کہہ دیا کہ جب تک بیت الخلا نہیں بنے گا اس وقت تک وہ گھر واپس نہیں آئے گی۔
انیتا کے والد نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ انہیں امید تھی کہ پنچائیت والے بیت الخلا بنانے میں شِورام کی مدد کریں گے۔
انیتا کہتی ہیں کہ ملنے والے پانچ لاکھ روپوں سے وہ غسل خانہ بنوائیں گی کیونکہ اس کے نہ ہونے سے انہیں نہانے میں کافی تکلیف ہوتی ہے۔
ادھر سُولابھ انٹرنیشنل کے بندیشور پاٹھک نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کا ایک انوکھا معاملہ ہے جس میں کسی عورت نے ایسا قدم اٹھانے کی ہمت دکھائی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اگر سارے بھارت میں لڑکیاں ایسا کرنے کا فیصلہ کر لیں تو لوگ بیت الخلاء بنوانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ لڑکیاں سسرال سے ایسے نہیں جاتیں۔اِسے اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ انیتا کی ہمت تمام لوگوں کے لئے مثال ہے۔ ‘







