بھارت، چھ کروڑ بچے غذائیت کی کمی کا شکار

بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ ملک میں بچوں کو مناسب غذا نہ مل پانا ’قوم کے لیے شرمندگی کا باعث ہے‘ اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیر اعظم غیر سرکاری تنظیموں کی تیار کردہ ایک رپورٹ جاری کر رہے تھے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی نصف سے کچھ کم آبادی غذائیت کی کمی کا شکار ہے۔
نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق اگرچہ ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے بھارت میں غربت اور غذائیت کی کمی کے مسئلے پر توجہ مبذول کراتے رہے ہیں لیکن بھارت میں اس نوعیت کی جامع رپورٹ پہلی مرتبہ تیار کی گئی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ’میں اس بات کو دہرانا چاہتا ہوں کہ غذائیتکی کمی کا مسئلہ قوم کے لیے شرم کی بات ہے اور ہماری قومی گھریلو پیداوار میں شاندار ترقی کے باوجود ملک میں غذائیت کی اتنی اونچی شرح کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔‘
لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ رپورٹ کے کچھ پہلو باعثِ تشویش ہیں لیکن یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ بچوں میں کم غذائیت کا مسئلہ پہلےکے مقابلے میں کم ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مسئلےسے نمٹنےکے لیے بچوں کی بہبود کے لیے چلائی جانے والی سکیم آئی سی ڈی ایس کے علاوہ بھی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور ان دو سو اضلاع پر خاص توجہ دی جائے گی جہاں صورتحال زیادہ خراب ہے۔
رپورٹ تیار کرنے والے ادارے ناندی فاؤنڈیشن نے نو ریاستوں میں تہتر ہزار خاندانوں پر مطالعہ کیا ہے۔
منموہن سنگھ نے کہا کہ حفظانِ صحت، صفائی ستھرائی، پینے کے پانی اور غذائیت کے شعبے میں کام کرنے والوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ہمہ جہت حکمت عملی اختیار کی جاسکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں کم غذائیت کا شکار بچوں کی تعداد چھ کروڑ ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور مناسب غذا نہ مل پانے کی وجہ سے ان کی نشوونما متاثر ہو رہی ہے۔
ان اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں کم غذائیت کا شکار بچوں کی کل آبادی کا تیسرا حصہ بھارت میں رہتا ہے۔
رپورٹ تیار کروانے والے ادارے سٹیزنس الائنس میں اراکین پارلیمان، ممتاز شخصیات، سماجی کارکن اور فنکار شامل ہیں۔







