’الطاف کے خلاف ثبوت پیش کروں گا‘

ذوالفقار مرزا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنڈاکٹر مرزا الطاف حسین کے خلاف مہم چلا رکھی ہے

پاکستان پیپلز پارٹی کے باغی رہنماء ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی لندن روانگی کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے بدھ کی صبح ٹیلیفون پر صدر آصف علی زرداری سے رابطہ کیا ہے۔

صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ملکی صورتحال اور اتحادی جماعتوں میں تعاون کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

لیکن کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ میں بلدیاتی نظام، ایم کیو ایم حقیقی کے رہنماء آفاق احمد کی ممکنہ رہائی اور ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی لندن روانگی کے معاملات بھی زیر غور آئے۔

ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے منگل کو لندن روانگی سے قبل کہا تھا کہ وہ لندن کی عدالت میں متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کے خلاف دستاویزی ثبوت پیش کریں گے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ ایک پاکستانی کی حیثیت سے جا رہے ہیں اور عوام ان کی کامیابی کے لیے دعا کرے۔ بقول ان کے وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک الطاف حسین کو سزا نہیں ہوجاتی۔

الطاف، زرداری

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشندونوں رہنماؤں نے مرزا کے دورہ کے حوالے سے بھی بات چيت کی ہے

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ اس سے پہلے قومی اسمبلی کی سپیکر اور ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی بیگم فہمیدہ مرزا نے منگل کی دوپہر کو ان سے ملاقات کی تھی جس کے بعد وہ اسلام آباد روانہ ہوگئیں جہاں انہوں نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی اور انہیں ڈاکٹر مرزا کے موقف سے آگاہ کیا۔

ڈاکٹر ذوالفقار مرزا ساڑھے تین سال تک سندھ کے صوبائی وزیر داخلہ رہے ہیں، انہوں نے انتیس اگست کو پریس کانفرنس میں متحدہ قومی موومنٹ اور وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے تھے۔ اس پریس کانفرنس کے بعد وہ سینئر صوبائی وزیر، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر نائب صدر کے عہدوں اور اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوگئے تھے۔

پہلے ان کی تنقید کا نشانہ ایم کیو ایم، اس کی قیادت اور وفاقی وزیر رحمان ملک تھے بعد میں انہوں نے صوبائی وزراء پیر مظہر الحق، منظور وسان، آغا سراج درانی اور دیگر کو بھی تنقید کی لپیٹ میں لے لیا۔

بدین میں دو روز قبل ان کی مخالفت میں ریلی نکالی گئی، جس کے شرکاء کی ان کے حامیوں سے جھڑپیں بھی ہوئیں۔ پس پردہ ریلی کے شرکا کو صوبائی وزیر داخلہ منظور وسان کی حمایت حاصل تھی۔ بعد میں مقامی قیادت اور وزراء کی شکایت پر پیپلز پارٹی ضلع بدین کے ان عہداروں کو تبدیل کردیا گیا جن کی ڈاکٹر مرزا کو حمایت حاصل تھی۔