’چین کی طرف سے کارگل جیسے حملے کا خدشہ‘

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنسرحد پر چین کی سرگرمیوں کے حوالے سے بھارت میں تشویش پائی جاتی ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

بھارت میں ایک نیم سرکاری تحقیقی ادارے نے اپنے ایک مقالے میں کہا ہے کہ چین بھارت پر کارگل کی طرز کا حملہ کر سکتا ہے اور اس نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ چین سے کسی ٹکراؤ کی صورت میں جوہری بم پہلے نہ استعمال کرنے کے اپنے بنیادی اصول کو ترک کر دے۔

اس دوران اطلاعات ہیں کہ بھارت چین کی سرحد پر تعیناتی کے لیے مخصوص فوجی ڈویژن تشکیل دے رہا ہے۔

بھارت کے سرکردہ نیم سرکاری تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس اینڈ اسٹریٹیجک انالیسس ( آئی ڈی ایس اے ) نے اپنے ایک حالیہ مقالے میں بھارت اور چین کے درمیان ٹکراؤ کا ایک تصور پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ چین کارگل میں پاکستان کے طرز پر اروناچل پردیش کے توانگ خطے پر حملہ کر سکتا ہے۔

دفاعی مقالہ نگار علی احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کارگل کے واقعے کے بعد بھارتی فوج کافی الرٹ ہے اور وہ سیٹلائٹ کے ذریعے سرحد پار کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ یہی نہیں وہ دو ڈویژن فوج چین کی سرحد پر تعینات کرنے والا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ چین توانگ خطے کو حاصل کرنے کے لیے حملہ کرے اس سے لڑائی شروع ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ہوگا یا نہیں ہوگا یا یہ کب ہوگا‘۔

علی احمد کا یہ بھی کہنا ہے کہ جوہری بم کے ’نو فرسٹ یوز‘ یعنی این ایف یو کی پالیسی بہت اچھی پالیسی ہے لیکن ٹکراؤ کی صورت میں بھارت کو اس اصول کو ترک کر دینا چاہیے۔

ان کے مطابق ’ٹکراؤ کے وقت جب بھارت پر زیادہ دباؤ بڑھنے لگے تو اسے چین کو یہ بتا دینا چاہیے کہ وہ اس کے صبر کا امتحان نہ لے۔ اس لیے اسے این ایف یو کی پالیسی ترک کر نی چاہیے‘۔

یہ مقالہ ایک ایسے وقت میں شائع ہوا ہے جب چین کی طرف سے بھارت میں خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ انڈین ڈیفنس ریویو جریدے کے تجزیہ کار بھرت ورما ایک عرصے سے چین کی طرف سے حملے کا خدشہ ظاہر کرتے رہے ہیں۔

لیکن بی بی سی بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ چین کو پاکستان کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے۔’پاکستان ایک چھوٹی طاقت ہے جبکہ چین ایک بڑی طاقت ہے۔ وہ چھوٹے کھیل کھیلنے کے لیے حملے نہیں کرےگا۔ وہ اگر جنگ کرے گا تو بڑے کھیل کے لیےکرے گا‘۔

بھرت ورما کہتے ہیں کہ مختلف وجوہات کے پس منظر میں انہیں پورا یقین ہے کہ چین سے جھڑپ ہو سکتی ہے اور اس میں وہ بھارت کا کافی علاقہ غصب کر سکتا ہے۔ ’بھارت چین کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ مسلح افواج کی جدید کاری تیزی سے نہیں ہو پا رہی ہے۔ فضائیہ کمزور ہے۔ بنیادی ڈھانچے میں خلاء ہے۔ فوج کھوکھلی ہوگئی ہے۔ چین بھارت سے پانچ یا چھ گنا زیادہ طاقتور ہے‘۔

بھارتی حکومت چین سے کسی فوجی ٹکراؤ کو میڈیا کا تصور قرار دیتی رہی ہے اور اسے بظاہر کم اہمیت دے رہی ہے۔ دفاعی امور کے وزیر مملکت ایم ایم پلم راجونے کہا کہ ’جہاں تک چینی سرحد پر صورتحال کا تعلق ہے مجھے نہیں لگتا کہ کوئی گھبرانے کی ضرورت ہے۔ رہی بات سلامتی کی تو ہم خطرے کے امکانات کی مطابقت سے ضروری اقدامات کرتے ہیں‘۔

ان خدشات کے درمیان اس طرح کی اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ بھارت شمال مشرقی ریاستوں سے لے کر لداخ تک چین سے ملنے والی اپنی چار ہزار کلومیٹر سرحد کی نگہبانی کے لیے ایک لاکھ اضافی فوجی بھرتی کرنے جا رہا ہے۔