جب قذافی نے اپنی اہلیہ کو دلی بھیجا

کرنل قدافی
،تصویر کا کیپشنکرنل قدافی کو جمعرات کو ایک کاروائی میں مار دیا گیا ہے

لیبیا میں کرنل معمر قذافی کا دورِ اقتدار تو بالآخر ختم ہو گیا لیکن ان کے غیر روایتی انداز سفارتکاری کی کچھ حیرت انگیز کہانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

کرنل قذافی کی حکمرانی کے دوران بھارت اور لیبیا کے تعلقات میں انتہائی گرم جوشی رہی لیکن سن دو ہزار نو میں جب انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران غیر متوقع طور پر کشمیر کو آزاد کرنے کی وکالت کی تو باہمی تعلقات میں دراڑ پڑ گئی۔

لیکن بہت سے سابق سفارتکاروں نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران ایسے دلچسپ واقعات کا ذکر کیا ہے جن کی مثال شاید سفارتکاری کے کسی سکول میں نہیں ملے گی۔

وزارت خارجہ کے سابق سیکرٹری این روی نے اخبار انڈین ایکسرپس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بھارت کے لیے کرنل قذافی کے دل میں ہمدردی تھی کیونکہ بھارت نے ستر کی دہائی میں، جو وہ اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر رہے تھے، ان کی مدد کی تھی۔ اس کے بعد ہمارے تعلقات مضبوط ہوتے گئے اور بھارت نے لیبیا میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں مدد کی‘۔

لیکن لیبیا نے جب غیروابستہ تحریک میں زیادہ سرگرم کردار ادا کرنا شروع کیا تو ان کی خواہش ہوئی کہ اندرا گاندھی( جو اس وقت بھارت کی وزیراعظم تھیں) لیبیا کا دورہ کریں۔

سابق سفارکار چنمےگھریخان کہتے ہیں کہ اندرا گاندھی کو لیبیا بلانے کے لیے انہیں نے ایک انتہائی غیر روایتی طریقہ اختیار کیا۔

’انہوں نے اندرا گاندھی سے ملنے کے لیے اپنی اہلیہ کو دلی بھیجا جنہوں نے مسز گاندھی سے کہا کہ میں آپ کو لیبیا کے دورے کی دعوت دینے آئی ہوں۔ میرے شوہر نے مجھے اتنی دور صرف اسی کام کے لیے بھیجا ہے اور میں آپ کے بغیر واپس نہیں جاؤں گی کیونکہ وہ مجھ سے ناراض ہوجائیں گے‘۔

لیکن ان کا مزاج بدلتا رہتا تھا اور باہمی تعلقات میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب کرنل قذافی نے بھارت کے وزیرِخارجہ کو اپنے دفتر میں ملاقات کے لیے چار گھنٹے انتظار کروایا!

اسی طرح انیس سو تراسی میں انہوں نے دلی میں غیر وابستہ تحریک کے سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے سے انکار کردیا اور بعد میں دلی میں مامور اپنے سفارتکاروں کو واپس بلا کر سفارتخانہ سنبھالنے کی ذمہ داری دلی میں زیر تعلیم لیبیائی طلبہ کے سپرد کر دی!

ایک سفارتکار نے اخبار کو بتایا کہ ’اس وقت ہمیں ایک عجیب و غریب صورتحال کا سامنا تھا۔ کیونکہ طلبہ راتوں رات سفارتی مشن کے سربراہ بن گئے تھے‘۔

اندار گاندھی نے انیس سو چوراسی میں لیبیا کا دورہ کیا اور خود کرنل قذافی ان کا استقبال کرنے کے لیے ائر پورٹ پہنچے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ دورہ تو اچھا رہا لیکن کرنل قذافی نے اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے اندرا گاندھی سے مدد مانگی لیکن انہوں نے ادب کے ساتھ انکار کر دیا۔

اکتوبر انیس سو چوراسی میں ہی اندرا گاندھی کو ان کے ذاتی محافظوں نے گولی مار کر ہلاک کردیا۔

اگرچہ گزشتہ دہائی میں کشمیر پر وہ اپنا نظریہ بدلتے رہتے تھے لیکن سن دو ہزار چھ میں ان کی بیٹی عائشہ نے اپنے ’ہنی مون‘ کے لیے ہندوستان کا ہی انتخاب کیا تھا حالانکہ اس وقت مغربی دنیا سے لیبیا کے تعلقات تیزی سے استواری کی راہ پر تھے۔