پاکستانی کشمیرمیں چینی فوج ہے: انڈیا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بھارتی فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں چین کی ’ پیپلز لبریشن آرمی‘ سمیت چین کے تقریبا چار ہزار افراد موجود ہیں۔
جنرل وی کے سنگھ نے پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں یہ بات کہی ہے۔
ان کا کہنا تھا ’وہاں تعمیرات کے کام میں لگے کئي گروپ موجود ہیں۔ تقریبا تین سے چار ہزار کے درمیان لوگ سکیورٹی کے مقصد سے تعینات ہیں۔ بعض فوجی انجینیئرنگ شعبہ سے جڑے ہیں اور ایسا بھارتی فوج میں بھی ہوتا ہے جہاں انجینیئر کے پاس فوجی صلاحیت ہوتی ہے۔ ایسے انجینیئرز بھی کسی نا کسی طرح پی ایل اے ( پیٹلز لیبریشن آرمی ) سے رابطہ رکھتے ہیں‘۔
بھارتی فوج کے سربراہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب دلی میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں چینی فوج کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
مسٹر سنگھ سے جب بھارتی زیرانتظام جموں کشمیر کی سکیورٹی کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ کنٹرول لائن پر دراندازی کی صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور شدت پسند بڑی تعداد میں اندر آنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
اس سے قبل بھارتی فضائیہ کے سربراہ این اے کے براؤن نے یہ بات کہی تھی کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں چینی فوج کی موجودگی بڑھتی جا رہی ہے اور ’اس پر بھارت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے‘۔
بھارت کا موقف ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا حصہ بھارت کا ہے۔ وہ اس مسئلے کو چینی حکام کے ساتھ بھی اٹھا چکا ہے۔
گزشتہ برس ایسی خبریں آئی تھیں کہ کشمیر کے گلگت اور بلتستان کے علاقے میں چین کے گيارہ ہزار فوجی موجود ہیں۔ اس کے رد عمل میں چین نے کہا تھا کہ وہ کچھ بھی غلط نہیں کر رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارت فوج کے بعض سینیئر فوجی افسر کنٹرول لائن کے پاس دوسری جانب چین کی جانب سے سڑکوں اور باندھ جیسے دیگر ترقیاتی کاموں کی تعمیرات پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔







