بھارت اور جنوبی کوریا میں جوہری معاہدہ

،تصویر کا ذریعہAFP Getty images
جنوبی کوریا اور بھارت نے ایک جوہری معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت اب جنوبی کوریا جوہری توانائی کی ٹیکنالوجی بھارت کو برآمد کر سکے گا۔
اس معاہدے کے بعد جنوبی کوریا کے ان ارادوں کو تقویت ملی ہے جن کے مطابق وہ بھارت کی توانائی کی مارکیٹ میں داخل ہونا چاہتا تھا۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب بھارت ملک میں بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب کو پورا کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔
جنوبی کوریا نواں ملک ہے جس نے بھارت کے ساتھ جوہری معاہدہ سائن کیا ہے۔
بھارت کے وزراتِ خارجہ امور کے سیکریٹری سنجے سنگھ کا کہنا ہے ’ہم جنوبی کوریا کو بھارت میں شہری مقاصد کے لیے جوہری توانائی کی پیداور کے لیے ایک اور ساتھی کے طور پر دیکھتے ہیں‘۔
ایک اندازے کے مطابق بھارت میں جوہری توانائی کی مارکیٹ کی لاگت ایک کھرب پچاس ارب ڈالر کے قریب ہے۔
گذشتہ برس بھارت میں ایوانِ زیریں میں ایک قانون منظور کیا گیا تھا جس میں جوہری توانائی کی مارکیٹ کو نجی سرمایہ کاری کے لیے کھول دیا گیا۔
اس کی وجہ سے غیر ملکی فرمز کو بھارت میں جوہری ری ایکٹرز تعمیر کرنے کی اجازات تھی۔ بھارت میں جوہری توانائی پر انحصار میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارت کا منصوبہ ہے کہ وہ آئندہ آنے والے برسوں میں تیس کے قریب جوہری ریایکٹر لگائے گا تاکہ دو ہزار پچاس تک وہ ایک چوتھائی بجلی جوہری توانائی سے حاصل کرسکے۔
جہاں ایک طرف جب بھارت کی جوہری تونائی کی منڈی بڑھ رہی ہے وہیں جنوبی کوریا نے بھی کچھ برسوں میں اس شعبے میں کافی ترقی کی ہے۔
جنوبی کوریا کے جوہری پلانٹس اپنے ملک میں ایک تہائی بجلی مہیا کرتے ہیں۔







