ممبئی حملے: غصہ اور تجسس ساتھ ساتھ

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, زبیر احمد
- عہدہ, بی بی سی، دادر، ممبئی
دادر، ممبئی کے مرکز میں واقع ہے اور اس کا شمار شہر کے نستاً پرانے علاقوں میں ہوتا ہے۔ دادر میں جس جگہ بم دھماکہ ہوا وہ ایک مصروف علاقہ ہے اور وہاں چاروں طرف بے شمار دکانیں اور رہائشی عمارتیں ہیں۔
وہاں کسی کو صحیح طور پر معلوم نہیں تھا کہ اصل میں ہوا کیا ہے۔ آیا دھماکہ خیز مواد کار کے اندر نصب کیا گیا تھا یا کار سے باہر تھا۔ وہاں پہنچنے پر مجھے جو کچھ نظر آیا وہ ایک بس سٹاپ تھا جسے دھماکے کی وجہ سے بری طرح نقصان پہنچا تھا اور قریب ہی کھڑی ایک کار تھی جو جزوی طور پر تباہ ہوئی تھی۔
یہ ایک کم شدت کا دھماکہ تھا جس کے نتیجے میں صرف چار افراد زخمی ہوئے تھے۔ یہاں دادر میں ہونے والا دھماکہ زیادہ شدید نوعیت کا نہیں تھا لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ زاویری بازار میں ہونے والا دھماکہ زیادہ شدت کا تھا جس میں ستر سے اسی افراد زخمی ہوئے۔
لیکن یہاں بھی لوگ غصے کے عالم میں تھے۔ یہ شام کو سات بجے کا وقت تھا جب دھماکہ ہوا۔ اس وقت علاقے میں بہت رش تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جس وقت دھماکہ ہوا یہ بہت اہم وقت ہے کیونکہ یہ شام کی خریداری میں عروج کا وقت سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے ایسا لگتا ہے کہ دھماکے کے لیے ایک ایسے وقت کا انتخاب کیا گیا جب زیادہ سے زیادہ جانی نقصان ہو اور افراتفری پھیلے۔
ایک دکاندار نے مجھے بتایا کہ انہوں نے ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی تو وہ دکان سے باہر آگئے اور دیکھا کہ بس سٹاپ پر بنایا گیا ڈھانچہ گرا پڑا ہے اور لوگ زخمی حالت میں زمین پر لیٹے ہوئے ہیں۔
علاقے کے ایک اور دکاندار سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ انہیں بھی دکان کے اندر ایک دھماکے کی آواز آئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ باہر آئے تو انہیں پتہ چلا کہ دھماکہ ہوا ہے اور انہوں نے لوگوں کو ایمبولنس گاڑیوں میں ہسپتال جاتے دیکھا۔
یہاں کئی لوگ بہت غصہ میں تھے۔ ان میں سے ایک شخص نے پوچھا کہ ہمیشہ ممبئی ہی حملوں کا نشانہ کیوں بنتا ہے۔
تاہم وہاں جمع ہونے والوں میں سے کئی صرف یہ دیکھنے وہاں آئے ہیں کہ کیا ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس وقت بہت تیز بارش ہو رہی ہے جس سے پولیس کے کام میں خلل پڑ رہا ہے۔ پولیس اہلکار وہاں شواہد تلاش کر رہے ہیں۔ یہاں اکٹھے ہونے والے لوگ بھی شاید پولیس کے کام میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
دادر کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں ابھی تک بہت سی دکانیں کھلی ہیں۔ اگرچہ کچھ دکانیں بند بھی ہوئی ہیں لیکن زیادہ تر دکانداروں نے معمول کا کاروبار جاری رکھنے کا انتخاب کیا ہے اور لوگ سبزیاں اور پھل خرید رہے ہیں۔ دادر میں افراتفری کا کوئی نشان نہیں ہے۔
لیکن شہر کے دیگر علاقوں میں صورتِ حال مختلف ہے۔ وہاں لوگوں میں پریشانی کے آثار ہیں اور وہ جلدی جلدی گھروں کو بھاگ رہے ہیں۔







