بھارت، پینتیس فیصد خواتین تشدد کا شکار

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنبھارت میں خواتین کے حقوق کی پامالی ایک عام بات ہے

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں پینتیس فیصد خواتین پر تشدد کیا جاتا ہے اور دس فیصد خواتین کے ساتھ ان کے ساتھی ہی جنسی زیادتی کرتے ہیں۔

اقوام متحد کی طرف سے یہ رپورٹ نئی دلی میں جاری کی گئی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق بھارت میں انتالیس فیصد مردوں کی یہ سوچ ہے کہ شوہر کا بیوی کو کبھی کبھی یا اکثر پیٹنا درست ہوتا ہے۔

خواتین کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی ایک تنظیم نے اس رپورٹ کو جاری کیا ہے۔ یہ تنظیم دنیا بھر میں خواتین کی صورت حال کے متعلق رپورٹ جمع کرنے کا کام کرتی ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ بھارت میں اس سے متعلق جن خواتین سے بات کی گئی ان میں سے پینتیس فیصد کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر یا ساتھی انہیں جسمانی طور پر اذیت دیتے ہیں۔

دس فیصد خواتین نے بتایا کہ ان کے شوہر یا ساتھی ان کے ساتھ جنسی تشدد بھی کرتے ہیں۔

اس رپورٹ میں ایک غیر سرکاری تنظیم کے جائزوں کے اعداد و شمار کو پیش کیا گيا ہے جس کے مطابق تقریباً ستر فیصد خواتین یہ اعتراف کرتی ہیں کہ اشتعال انگیز کپڑے پہننے کا مطلب جنسی زیادتی یا عصمت دری کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

اقوام متحدہ کی تنظیم نے بھارت پر اس بات کے لیے سخت نکتہ چینی کی ہے کہ عدالتی شعبہ میں خواتین کی نمائندگی صرف تین فیصد ہی ہے۔

اس کے مطابق بھارت میں صرف تین فیصد خواتین ہی ججوں کے عہدے پر فائز ہیں اور اس میں وہ بہت پیچھے ہے۔

رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ محکمہ پولیس اور عدلیہ میں خواتین کے ساتھ جانب داری ایک عام بات ہے اس لیے بہت سی خواتین تھانے میں رپورٹ درج کرانے میں ہی ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہیں اس لیے ان کے ساتھ انصاف نہیں ہو پاتا ہے