سمجھوتہ ایکسپریس کیس میں فرد جرم داخل

اس ٹرین میں غالب اکثریت پاکستانی شہریوں کی تھی
،تصویر کا کیپشناس ٹرین میں غالب اکثریت پاکستانی شہریوں کی تھی

بھارت میں سنگین نوعیت کی دہشتگردی اور جرائم کی تحقیقات کرنے والے قومی تفتیشی ادارے یعنی این آئی اے نے سمجھوتہ ایکسپریس میں بم دھماکے کے معاملے پر ایک سادھو سمیت پانچ افراد کے خلاف فردِ جرم داخل کردی ہے۔

ہریانہ کے پنچکولہ شہر کی خصوصی عدالت میں این آئی اے نے جو فردِ جرم داخل کی ہے اس میں سوامی اسیم آنند کو سنہ دو ہزار سات کے بم دھماکے کا اصل ملزم قرار دیا گیا ہے۔

سوامی کے ساتھ آر ایس ایس کے کارکن سنیل جوشی (جو پر اسرار طریقے سے قتل کر دیے گئے تھے ) لوکیش شرما ، سندیپ ڈانگے اور رام چندر کلسانگرہ پر مجرمانہ سازش کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔

سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین دلی اور لاہور کے درمیان ہفتے میں دو روز چلتی ہے۔ اس ٹرین میں بم دھماکہ ہریانہ کے شہر پانی پت کے نزدیک اٹھارہ فروری سنہ دو ہزار سات کی نصف شب ہوا تھا اور اس میں اڑسٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں غالب اکثریت پاکستانی مسافروں کی تھی جو بھارت میں اپنے رشتے داروں سے ملنے کے بعد واپس اپنے ملک جا رہے تھے۔

این آئی اے نے جو فرد جرم داخل کی ہے اس کے مطابق سوامی اسیم آنند گجرات کے اکشر دھام مندر، بنارس کے سنکٹ موچن مندر اور جموں کے رگھوناتھ مندر پر مسلم شدت پسندوں کی جانب سے کیےگئے حملوں کے باعث صدمے کا شکار تھے۔

ایجنسی کے مطابق سوامی اسیم آنند مقتول جوشی اور اپنے دیگر ساتھیوں سے باتوں میں اکثر اپنے جذبات کا اظہار کیا کرتے تھے۔ ’وقت کے ساتھ ساتھ ان سب ہی کے دلوں میں نہ صرف جہادی شدت پسندوں کے خلاف بلکہ بد قسمتی سے پوری اقلیتی برادری کے خلاف انتقامی کاروائی کے جذبات پیدا ہو گئے تھے۔‘

این آئی اے نے اپنی فرد جرم میں کہا ہے کہ سوامی اسیم آنند نے ’بم کا جواب بم سے‘ کا نعرہ اختیار کیا اور اپنے حملے کے لیے سمجھوتہ ایکپریس کا انتخاب کیا کیونکہ اس میں سفر کرنے والے بیشتر پاکستانی اور مسلم ہوتے ہیں۔

اس میں کہا گیا ہے کہ سوامی نے نہ صرف ہندو شدت پسند گروپ کو حملے کی ترغیب دی بلکہ انہیں پیسے اور حملے کا ساز و سامان فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

سمجھوتہ ایکسپریس میں بم دھماکے کے بعد بھارتی ایجینسیوں نے اس کی ذمے داری بعض مسلم شدت پسند تنظیموں پر ڈالی تھی لیکن جب ملک میں بعض دہشتگردی کے واقعات کی تفتیش سے ان واقعات میں ہندو شدت پسندوں کے ملوث ہونے کی بات سامنے آئی تو اس کی تفتیش نے نیا موڑ اختیار کیا۔

سمجھوتہ ایکسپریس کے دھماکے کی تفتیش انڈین ریلوے پولیس اور ہریانہ پولیس نے کی تھی لیکن تفتیش میں کو ئی پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔

این آئی نے اس واقعے کی تفتیش گزشتہ جولائی میں اپنے ہاتھ میں لی تھی۔ این آئی اے اب کئی برس پرانے دہشت گردی کے متعدد واقعا ت کی تفتیش کر رہی ہے۔

اسے شبہ ہے کہ ان واقعات میں بھی ہندو شدت پسندوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

این آئی نے سمجھوتہ ایکسپریس کے معاملہ میں ہندو شدت پسندوں کے خلاف فرد جرم ایسے وقت داخل کی ہے جب آئندہ جمعرات سے بھارت اور پاکستان کے خارجہ سکریٹریوں کے درمیان مزاکرات شروع ہونے والے ہیں۔

پاکستان یہ کہتا رہا ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس کی تفتیش میں پیشرفت نہیں ہو رہی ہے۔