بابا رام دیو نے بھوک ہڑتال ختم کر دی

،تصویر کا ذریعہAFP

بھارت کے مشہور گرو بابا رام دیو نے صحت کی خرابی کے پیشِ نظر نویں دن بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف ان کی جدوجہد جاری رہے گی

انہوں نے یہ بھوک ہڑتال بیرونی ممالک کے بینکوں میں اربوں ڈالر وطن واپس منگوانے کے لیے شروع کی تھی تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جاسکے۔

انہیں دو روز قبل فشارِ خون میں کمی اور نبض ڈوبنے کے باعث ایک ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔

بابا رام دیو کا طبی معائنہ کرنے والے ڈاکٹر یوگندرا چندرا شرما نے بھارت کے سرکاری خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو بتایا ’اگر ان کی نبض کی رفتار اور فشارِ خون میں کمی جاری رہتی تو اس سے ان کے دل پر دباؤ پڑ سکتا تھا، اور اسی وجہ سے ان کی صحت خراب ہورہی تھی‘۔

ایک ہفتے قبل پولیس نے دہلی میں ان کے ہزاروں حامیوں کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا تھا۔ پولیس کے اِس عمل کی بدعنوانی کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں اور حزبِ اختلاف نے مذمت کی تھی۔

بھارتی یوگا گرو، بابا رام دیو نے دلی میں پولیس کی کارروائی اور دلی بدر کیے جانے کے بعد اپنے آبائی شہر ہرِدوار میں بھوک ہڑتال جاری رکھی تھی۔

پولیس کی کارروائی کے خلاف حکومت کو ملک گیر احتجاج کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

حکام کے مطابق، گذشتہ ہفتے پولیس نے دہلی میں ان کی بھوک ہڑتال کے خلاف کارروائی حکام کے ساتھ تلخ کلامی کے بعد کی تھی۔ حکومت اِس کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کرتی ہے کہ بابا رام دیو نے مذاکرات کے دوران کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کی۔

بابا رام دیو نے بدعنوانی کے خلاف ہڑتال ایسے وقت کی جب کانگریس کی حکومت موبائل فون آپریٹرز کو فروخت کیے گئے لائسنسوں میں بدعنوانی کا سکینڈل سامنے آنے کے بعد اس سے نمٹ رہی ہے۔

بابا رام دیو نے ایسے سرکاری ملازمین کے لیے موت کی سزا کا مطالبہ کیا ہے جو بدعنوانی میں ملوث پائے جائیں۔ کابینہ کے کئی وزراء نے بابا رام دیو کو قائل کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ بھوک ہڑتال نہ کریں، تاہم وزراء اپنا سا منہ لے کر واپس چلے گئے تھے۔

بابا رام دیو کا روزانہ ایک ٹی وی پروگرام بھی نشر ہوتا ہے جسے لاکھوں افراد دیکھتے ہیں۔