بابا کے خلاف کارروائی پر جواب طلبی

بابا رام دیو

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنبابا رام دیو پر پندرہ روز تک دلی میں داخل ہونے پر پابندی لگا دی گئی ہے

بھارت کی سپریم کورٹ نے دلی کے رام لیلا میدان سے یوگا کے گرو بابا رام کو زبردستی ہٹائے جانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔

بابا رام دیو نے سنیچر کی صبح بدعنوانی کے خلاف اپنی غیرمعینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی جسے ختم کرنے کے لیے رات ایک بجے کے بعد پولیس نے کارروائی کی تھی جس میں آنسو گیس کا بھی استعمال کیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس وقت پنڈال میں تقریباً پچاس ہزار لوگ موجود تھے۔

دلی سے نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق عدالت نے اس واقعہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے وفاقی حکومت، دلی کی ریاستی سرکار اور دلی پولیس کو نوٹس جاری کیے ہیں اور انہیں جواب دینے کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا گیا ہے۔

اس کارروائی میں ہزاروں پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا تھا اور بتایا جاتا ہے کہ کم سے کم تیس لوگ زخمی ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

بابا رام دیو کا الزام ہے کہ پولیس نے عورتوں اور بچوں کو بھی زد وکوب کیا اور لاٹھیوں سے لوگوں کو پیٹا گیا لیکن پولیس اس الزام سے انکار کرتی ہے۔

سوامی رام دیو پر پندرہ روز تک دلی میں داخل ہونے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

انہوں نے دلی کے نواحی علاقے نوئیڈا میں اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھنے کی کوشش کی تھی لیکن اتر پردیش کی حکومت نے بھی انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد اب انہوں نے اپنی تحریک ہری دؤار میں اپنے آشرم سے ہی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بابا رام دیو سے اظہار یکجہتی کے طور پر بی جے پی کے رہنما بھی دلی میں چوبیس گھنٹے کے دھرنے پر بیٹھے ہیں جبکہ سول سوسائٹی کے لیڈر اور سماجی کارکن انا ہزارے بدھ کو ایک روز کی علامتی بھوک ہڑتال کریں گے۔

پولیس کی کارروائی کی تقریباً سبھی حلقوں نے مذمت کی ہے اور اسے جمہوریت پر حملے سےتعبیر کیا جارہا ہے۔

اپنی ناراضگی ظاہر کرنے کے لیے سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے جن لوک پال بل پر حکومت کے ساتھ صلاح مشورے کے عمل کو بھی فی الحال روک دیا ہے۔ اس بل پر پیر کو ایک میٹنگ ہونی تھی جس میں انہوں نے حصہ نہیں لیا۔ انہوں نے حکومت کو ایک خط لکھ کر کچھ وضاحتیں طلب کی ہیں جس کے بعد ہی آگے کے لیے کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

جن لوک پال بل حکومتی حلقوں میں بدعنوانی کے الزامات کی تفتیش کے لیے وضع کیا جارہا ہے۔ اپریل میں انا ہزارے کی قیادت میں ایک تحریک کے بعد حکومت نے مجبوراً یہ مطالبہ تسلیم کیا تھا کہ بل کو حتمی شکل دینے والی کمیٹی میں سول سوسائٹی کے نمائندے بھی شامل ہوں تاکہ ایک سخت قانون بنایا جاسکے۔