’چڑیل کے شبہ میں میاں بیوی پر تشدد‘

بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور سے متصل بلودا بازار کے سوراگاؤں میں کالا جادو کرنے کے الزام میں ایک میاں بیوی کی آنکھیں پھوڑ دی گئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق خاتون پر چڑیل ہونے کا شک تھا اس لیے جمعہ کو ان کی زبان بھی کاٹ دی گئی ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ کام متاثرہ جوڑے کے رشتہ داروں اور بعض دیگر لوگوں نے مل کر کیا ہے۔
رائے پور میں بی بی سی کے نامہ نگار سلمان راوی کے مطابق اس واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی کا ماحول ہے اور پولیس نے اس سلسلے میں دس افراد کو گرفتار کیا ہے جو اسی گاؤں کے رہائشی ہیں۔
ُادھر زخمی جوڑے کا علاج سرکاری ہسپتال میں کیا جا رہا ہے۔
عمر رسیدہ خاتون شیام کنور پر الزام ہے کہ وہ ایک چڑیل ہیں اور اسی کی وجہ سےگاؤں کے افراد بیماریوں اور پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے چند روز قبل بھی گاؤں والوں نے اسی الزام کے تحت اس جوڑے پر حملہ کیا تھا لیکن بعض افراد کی مداخلت سے معاملہ رفع دفع ہوگيا تھا۔
تاہم جمعہ کو کئی افراد نے منشا رام بنجارے کے گھر پر حملہ کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا الزام تھا کہ بنجارے کی بیوی شیام کنور جادو ٹونہ کرتی ہیں جس کی وجہ سے گاؤں مشکلات سے دوچار ہے۔
حملہ آوروں نے جب بیوی کو نشانہ بنایا تو بنجارے بیوی کی حفاظت کے لیے آگے بڑھے لیکن ان لوگوں نے دونوں کے ہاتھ پیر باندھ دیے اور قینچی سے ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔
معاملہ صرف یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ ہجوم نے جاتے جاتے اس خاتون کی زبان بھی کاٹ دی اور انہیں گھر پر ویسے ہی چھوڑ کر چلے گئے۔
بعد میں گاؤں کے ہی کسی فرد نے قریب کے تھانے میں اس واقعے کی اطلاع دی جس پر پولیس نے کارروائی کی۔
ریاست بہار، جھارکھنڈ، اڑیسہ، بنگال اور چھتیس گڑھ کے بہت سے علاقوں میں خواتین پر چڑیل ہونے اور کالا جادو کرنے جیسے الزام لگتے رہتے ہیں۔ اس کے تحت ان پر زیادتیاں کی جاتی ہیں۔
اس کی روک تھام کے لیے قوانین بھی بنے ہیں لیکن مقامی روایتیں کچھ ایسی ہیں کہ اس طرح کے الزام کے تحت خواتین پر ظلم و زیادتی واقعات اکثر ہوتے رہتے ہیں۔







