’بھارت کا ایٹمی پروگرام روک دیا جائے‘

بھارت کے ایک سرکردہ جوہری سائنسداں اور جوہری امور پر وزیر اعظم کے مشیر پی بلرام نے مستقبل میں ملک کے جوہری پروگرام کو عارضی طور پر بند کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بھارت کی جوہری توانائی کی حکمت عملی کا جب تک دوبارہ جائزہ نہ لے لیا جائے اس وقت تک تمام منصوبوں کو روک دینا چاہیے۔
لیکن بھارتی حکومت اپنے جوہری منصوبوں کو روکنے سے پہلے انکار کر چکی ہے۔
پی بلرام کا تعلق جنوبی ہندوستان سے ہے جو بھارت کے سرکردہ ’انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس‘ کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں وزیراعظم کو باقاعدہ ایک خط لکھا ہے۔
مسٹر پی بلرام کے ساتھ ہی بھارت کی پچاس دیگر سرکردہ شخصیات نے بھی حکومت پر زور دیا ہے کہ ملک کے موجودہ تمام جوہری تنصیبات کا آزادنہ معائنہ کیا جائے۔
جاپان میں زلزلے اور سونامی سے متاثر ہونے والے جوہری پلانٹس کی صورت حال سے پیدا ہونے والی صورت حال کے بعد سے بھارت میں کافی تشویش پائی جاتی ہے۔
چند دنوں قبل ممبئی میں سرکردہ شخصیات نے جیتا پور کے جوہری پلانٹ کی مخالفت میں ایک زبردست مارچ کیا تھا۔
جیتا پور میں فرانس کی مدد سے ایک بڑا جوہری توانائی کا پرجیکٹ تیار ہونا ہے لیکن مقامی لوگ اس کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ جاپان کے واقعے کے بعد اس کے خلاف احتجاج شدید ہوگیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں جوہری توانائی کے لیے کوشاں ہیں اور آئندہ پچیس برس میں وہ موجودہ صلاحیت سے تقریباً پندرہ گنا جوہری تونائی پیدا کرنا چاہتی ہے۔
جاپان کے واقعے کے بعد سے جوہری تنصیبات کے تحفظ کے حوالے سے کافی تشویش ہے لیکن صرف جرمنی نے ہی اپنے جوہری پروگرام پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔
ادھر عالمی جوہری تونائی کاؤنسل کے سربراہ پیئرےگیدونی نے دنیا کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ جوہری تنصیبات کے سلسلے میں ایک مشترکہ حفاظتی معیار اختیار کرنے سے اتفاق کریں۔ ان کا یہ بیان جاپان کے واقعات کے پشس منظر میں آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر جوہری حادثہ پڑوسی ممالک کے بھی عموماخطرہ بن سکتا ہے۔ '' اب وقت آگیا ہے کہ ہر جوہری ملک ایک باثر اور مکمل طور پر آزاد معائنہ کار مقرر کرے۔ یہ معائنہ کار ایک مشترکہ حفاظتی انتظامات کا معیار وضع کریں۔ اور اس عمل میں پوری شفافیت ہونی چاہیے تبھی عوام کا اعتماد بحال ہوگا۔''







