ارونا کیس: موت کے حق کی درخواست مسترد

نرس ارونا شان باگ
،تصویر کا کیپشنارونا 1973 سے بسترِ مرگ پر ہیں

بھارت کی سپریم کورٹ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ارونا شان باگ کو موت دینے کی درخواست کو رد کر دیا ہے جو گزشتہ 34 سالوں سے بسترِ مرگ پر ہیں۔

عدالت کا کہنا ہے کہ ارونا کو جینا چاہیے کیونکہ طبی اور دیگر شہادتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انہیں ’انسانی بنیادوں پر موت‘ نہیں دی جا سکتی۔ ارونا کو 1973 میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اسی دوران زخمی ہونے کے بعد سے وہ مفلوج حالت میں بسترِ مرگ پر ہیں۔ارونا نہ چل پھر سکتی ہیں اور نہ بول سکتی ہیں۔

یہ درخواست صحافی اور مصنفہ پنکی ویرانی نےداخل کی تھی جو ارونا کے زندگی پر کتاب لکھ رہی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر نرس ارونا نیم مردہ حالت میں جی رہی ہیں تو انہیں باعزت طریقے سے موت دی جائے۔

ممبئی میں کے ای ایم ہسپتال میں وہیں کی نرسیں ارونا کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔جنوری میں عدالت نے ڈاکٹروں سے ارونا کی صحت پر رپورٹ طلب کی تھی۔

اپنی کتاب میں پنکی ویرانی لکھتی ہیں کہ گزرتے وقت کے ساتھ کس طرح ارونا کی صحت بگڑتی جا رہی ہے۔ ان کے دانت خراب ہو رہے ہیں، انہیں کھانا کھانے میں دشواری ہوتی ہے اور مشروبات سے انہیں پھندہ لگ جاتا ہے پنکی ویرانی کا کہنا ہے کہ اورنا بے بس ہیں، خود سے کھا نہیں سکتی ہیں نہ ہی انہیں کسی قسم کا احساس ہے۔ برسوں سے وہ محض ایک بستر پر محدود ہو کر رہ گئی ہیں ان کا کہنا ہے کہ ارونا جو زندگی جی رہی ہیں وہ محض ایک زندہ لاش کی طرح ہیں

تاہم ہسپتال کے عملے کا کہنا ہے کہ ارونا نارمل طریقے سے کھاتی ہیں اور چہرے کے تاثرات سے باتوں کا جواب دینے کی کوشش کرتی ہیں۔

تقریباً اڑتیس سال قبل ستائیس نومبر کو اسی ہسپتال کے ایک صفائی مزدور سوہن لال والمیکی نے ہسپتال کے ہی ڈورمیٹری میں کتے کو باندھنے والی زنجیر ارونا کے گلے میں باندھی تھی جس کی وجہ سے ارونا کے دماغ تک جانے والی آکسیجن رک گئی ۔

اس حملے میں والمیکی نے ارونا کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ پولیس نے اسے گرفتار کیا لیکن اس پر صرف اقدام قتل اور چوری کا کیس بنا اور اسے سات سال کی سزا ہوئی جس کے بعد وہ جیل سے رہا ہو گیا۔

نرسیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنہسپتال کی نرسیں ارونا کا بہت خیال کرتی ہیں

گزشتہ اڑتیس برسوں سے ارونا کے ای ایم ہسپتال کے وارڈ نمبر چار میں بستر پر ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کے دماغ کی رگیں سکڑنے لگی ہیں جس کی وجہ سے وہ جذبات اور احساسات کو محسوس نہیں کر پاتی ہیں۔ تاہم ہسپتال کی نرس انچارج میٹرن ارچنا بھوشن جادھو کا دعوٰی ہے کہ ارونا آج بھی کمرے میں مرد کی آواز سن کر ڈر جاتی ہیں اور چیخنے لگتی ہیں۔

میٹرن جادھو اور ہسپتال کے وارڈ نمبر چار کی ہر نرس کو ارونا سے لگاؤ ہے۔ ہسپتال میں نئی نرسوں کی ٹیم جب چارج لیتی ہے تو انہیں ارونا کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔

نیورولوجسٹ ڈاکٹر سنیل پنڈیا کے مطابق ارونا اپنی آنکھیں تو کھولتی ہیں لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ ان کے دماغ میں کوئی بات ریکارڈ ہو بھی رہی ہے یا نہیں۔