بھارت: فرانس جوہری بجلی گھر تعمیر کرے گا

فرانس نے بھارت میں اربوں ڈالر کی لاگت سے دو جوہری بجلی گھروں کی تعمیر کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
اس فریم ورک معاہدے پر فرانس کے صدر نکولا سرکوزی اور وزیر اعظم من موہن سنگھ کی موجودگی میں حتمی شکل دی گئی۔ نکولا سرکوزی اور ان کی اہلیہ انڈیا کے چار روزہ دورے پر آئے ہوئے ہیں۔
معاہدے کے تحت جوہری بجلی گھر بنانے میں مہارت رکھنے والے بڑی فرانسیسی کمپنی اریوا مہارشٹر کے جیتاپور میں سولہ سو پچاس میگاواٹ کی گنجائش والے دو بجلی گھر تعمیر کرے گی۔
ان پراجیکٹس پر تقریباً سوا نو ارب ڈالر لاگت آئے گی لیکن کل لاگت اور تکنیکی معاملات پر بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔
وزیر اعظم من موہن سنگھ نے صدر سرکوزی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں بات چیت آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہے۔
صدر سرکوزی نے یو این کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے لیے بھارت کے دعوے کی بھی حمایت کی۔'یہ دنیا میں توازن کا معاملہ ہے، ہم ایک ارب عوام کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔'
انہوں نے پاکستان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سرزمین پر سرگرم شدت پسند عناصر کو قابو کرے۔
ہندوستان بڑھتی ہوئی بجلی کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے بیس جوہری بجلی گھر لگانا چاہتا ہے اور ان دو بجلی گھروں سے اس سلسلے کا آغاز ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق دونوں ملک جیتا پور میں چھ بجلی گھر لگانا چاہتے ہیں جس پر تقریباً پچیس ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔ ان میں سے پہلے دو کی منظوری دیدی گئی ہے۔
اریوا کے مطابق پہلے بجلی گھر تیار کرنے میں سات سال لگیں گے۔
ان بجلی گھروں کی تعمیر کی راہ انڈیا اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدے سے ہموار ہوئی تھی۔
امریکہ سمیت کئی مغربی ممالک انڈیا میں بجلی گھر لگانے کے خواہشمند ہیں کیونکہ یہ انتہائی منافع بخش معاہدے ہیں جن سےانہیں اربوں ڈالر کا کاروبار ملے گا۔ لیکن کسی جوہری حادثے کی صورت میں معاوضے کی ادائگی سے متعلق انڈیا نے جو سخت قوانین وضع کیے ہیں، ان کی وجہ سے امریکی کمپنیاں ابھی آگے آنے سے گریز کر رہی ہیں۔
صدر براک اوباما گزشہ ماہ جب بھارت کے دورے پر آئے تھے، تب امریکی کمپنیوں کے تحفظات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
اس کے بعد سرکوزی اور من موہن سنگھ نے علاقائی سلامتی، تجارت اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال کیا۔
فرانسیسی صدر کے ساتھ ان کے وزیر دفاع، وزیر خزانہ اور وزیر خارجہ اور ایک بڑا تجارتی وفد بھی آیا ہے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق اس دورے میں کسی فوجی سودے کو حتمی شکل دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔ انڈیا تقریباً گیارہ ارب ڈالر مالیت کے ایک سو چھبیس جنگی طیارے خریدنے کی تیاری میں ہے۔
اس کے علاوہ اس کی فضائیہ میں پہلے سے موجود اکیاون میراج طیاروں کو بھی جدید ترین آلات سے لیس کرنے کے لیے فرانسیسی کمپنیوں سے بات چیت چل رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس معاہدے کو بھی جلدی ہی حتمی شکل دی جاسکتی ہے۔دونوں ملکوں نے آئندہ سال کے لیے تقریباً سولہ ارب ڈالر کےکاروبار کا ہدف رکھا ہے۔







