اروندھتی رائے کے خلاف کارروائی کی تیاری

اروندھتی رائے
،تصویر کا کیپشناروندھتی رائے نے کشمیر مسئلے پر حال ہی جو بیان دیئے تھے اس پر ہندوستانی میڈيا میں بحث جاری ہے
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی حکومت معروف ادیب اور سماجی کارکن ارون دھتی رائے کی کشمیر مسئلے سے متعلق حالیہ تقریر کے خلاف مقدمہ درج کرنے پر غور کر رہی ہے۔

ارون دھتی رائے نے اتوار کو سری نگر میں ایک سیمینار سے خطاب کے دوران بھارت کے زیرانتظام کشمیر کو 'متنازعہ اور مقبوضہ خطہ' قرار دیا تھا۔

انہوں نے اپنی تقریر میں یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ برطانیہ کے خلاف ہندوستانیوں نے جو جدوجہدِ آزادی شروع کی تھی اس میں بھی تشدد کا عنصر شامل تھا۔

<link type="page"><caption> اروندھتی رائے کے بیان کا متن</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/10/101026_arundhati_statement_ha.shtml" platform="highweb"/></link>

عالمی شہرت یافتہ ارون دھتی نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ انہوں نے کشمیریوں، یہاں مارے جارہے دلِت بھارتی فوجیوں اور یہاں سے نکالے گئے کشمیری پنڈتوں کے لئے انصاف کی بات کی ہے۔

کانگریس پارٹی جو عمرعبداللہ کی قیادت والی مخلوط حکومت کا اہم جزو ہے کے ایک سینئر وزیر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا: ’ارون دھتی کی تقریر اشتعال انگیز تھی اور حکومت قانون شکنی کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کرے گی‘۔

کشمیر پولیس کے انسپکٹر جنرل شِو موہن سہائے نے کہا کہ اس سلسلے میں ’قانون اپنا کام کرے گا‘۔

انہوں اعتراف کیا کہ ارون دھتی کی تقریر کا باریکی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں محکمہ داخلہ نے شعبہ قانون کی خدمات حاصل کر لی ہیں جو یہ طے کرے گا کہ آیا ارون دھتی کے خلاف مقامی آئین کے مطابق کوئی کاروائی کی جاسکتی ہے یا نہیں۔

واضع رہے کہ شمیر میں سرگرم انسانی حقوق کے ادارے جموں کشمیر کولیشن آف سِول سوسائیٹیز' یا جے کے سی سی ایس کے زیراہتمام ایک سیمینار میں ارون دھتی کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔

ان کے ہمراہ معروف بھارتی وکیل اور رضاکار گوتم نولکھا بھی تھے۔ مسٹر گوتم نے ہندی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج دنیا میں مسئلہ کشمیر کی بات ہو رہی ہے تو وہ مسلح شدت پسندوں کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ اب انہیں پرامن مزاحمت کے نئے طریقہ ایجاد کرنے ہونگے۔

آزادی یا غلامی کے عنوان سے منعقدہ اس سیمینار کے میزبان ادارے جے کے سی سی ایس کے ترجمان خرم پرویز نے کہا کہ کشمیریوں کی اکثریت سمجھتی ہے کہ کشمیر متنازعہ ہے۔ ’یہ ایک سچ ہے جو اس سچ کے اظہار کو جرم کہتا ہے وہ جھوٹ کا ترجمان ہے‘۔

معروف کشمیری قانون دان ظفر احمد شاہ کا خیال ہے کہ ارون دھتی نے قانون اور آئین کی حد میں رہ کر ہی بات کی ہے۔

ان کا کہنا ہے ’جو بھی قوانین ہماری ریاست پر نافذ ہیں، ان کی رُو سے کسی تاریخی حقیقت کو حکومت کی نکتہ چینی کے بغیر دہرانا سیڈیشن نہیں ہے۔ اعتراض تو تب ہے اگر تقریر میں حکومت یا حکومتی اداروں کے خلاف اس حقیقت کے ذریعے نفرت پھیلانے کی کوشش کی جائے۔ تاریخ کا حوالہ دینا تو تقریر کی آزادی میں شامل ہے‘۔

کشمیر یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر ڈاکٹر شیخ شوکت حسین کہتے ہیں کہ تاریخی حوالوں پر اعتراضات کرنا ایک نامعقول حرکت ہے۔

ان کا کہنا تھا ’پھر جواہر لعل نہرو کے خلاف بھی کیس کرنا چاہیے ہے جنہوں نے کشمیر کو ایک قابل حل مسئلہ قرار دیا اور اس پر بات چیت بھی کی اور اقوام متحدہ تک گئے۔ اس طرح تو پھر واجپائی بھی قصوروار ثابت ہوتے ہیں جنہوں نے پاکستان کے ساتھ کشمیر پر بات کی اور مسلح حزب المجاہدین کے ساتھ بات چیت کی نگرانی کی‘۔