ممبئی میں پولیس ’انکاؤنٹرز‘ کا سچ

پردیپ شرما
،تصویر کا کیپشنممبئی پولیس فورس میں پردیپ شرما کی طرح کئی اور انسپکٹر ہیں جنہیں انکاؤنٹر کا ماہر کہا جاتا ہے
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی

پولیس مقابلوں کے ماہر پولیس انسپکٹر پردیپ شرما کی گرفتاری نے ممبئی پولیس کے انکاؤنٹرز پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔ کیا پولیس واقعی ملزمان کے ساتھ دوبدو مقابلہ کرتی ہے؟ اور اگر ہاں تو پھر کیوں نہیں کوئی پولیس افسر ملزم کی گولیوں سے شدید زخمی ہوتا ہے یا ان میں سے کسی کی آج تک ہلاکت کیوں نہیں ہوئی؟

یہ سوال جسٹس اگیار نے ایک کیس کی سماعت کے دوران پولیس اہلکاروں سے کیا تھا۔ سابق مافیا سرغنہ ارون گاؤلی گینگ کے شارپ شوٹر سدا ماما پاؤلے اور ان کے ایک ساتھی کو انسپکٹر وجے سالسکر اور ان کی ٹیم نے پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا تھا۔ اس پولیس مقابلے کو پاؤلے کے گھر والوں نے عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ کیس کی سماعت کے دوران پتہ چلا کہ پاؤلے کے پاس اے کے 47 رائفل تھی اور سالسکر کے پاس نائن ایم ایم کی سروس ریوالور۔

جسٹس اگیار نے سوال کیا تھا کہ کیسے پاؤلے کی اے کے 47 جیسی جدید رائفل سے کوئی پولیس والا زخمی تک نہیں ہوا اور پولیس کی ریوالور سے دو افراد ہلاک ہو گئے۔ انہوں نے اس مقابلے کو فرضی قرار دیا جسے سالسکر نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔ سالسکر سنہ دو ہزار آٹھ میں ممبئی پر ہوئے حملوں میں ہلاک کر دیے گئے ہیں۔

ممبئی پولیس فورس میں پردیپ شرما کی طرح کئی اور انسپکٹر ہیں جنہیں انکاؤنٹر کا ماہر کہا جاتا ہے۔ جن میں وجے سالسکر، دیا نائیک، پرفل بھوسلے اور رویندر آنگرے کے نام سر فہرست ہیں۔ ان سب افسران پر بھی مجرمان کو فرضی انکاؤنٹر میں مارنے کے الزامات عائد ہو چکے ہیں لیکن پردیپ شرما ایسے پہلے پولیس افسر ہیں جنہیں باقاعدہ گرفتار کیا گیا ہے۔

جمہوری حقوق کے تحفظ کی کمیٹی کے رکن ایڈوکیٹ پی اے سباستین نے پولیس کے ذریعے کیے جانے والے انکاؤنٹر کی صداقت پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے عدالت میں مفاد عامہ کی عرضداشت داخل کی تھی۔ سباستین کے مطابق پولیس انہیں دیے گئے حقوق کی پامالی کی مرتکب ہو رہی تھی۔ اور اس کا اندازہ انہوں نے ان کے ذریعہ کیےجانے والے انکاؤنٹر کے مشاہدے کے بعد کیا تھا۔

ممبئی پولیس فورس میں انکاؤنٹر کی کہانی انیس سو اکاسی سے شروع ہوتی ہے
،تصویر کا کیپشنممبئی پولیس فورس میں انکاؤنٹر کی کہانی انیس سو اکاسی سے شروع ہوتی ہے

سباستین کہتے ہیں ’ہر انکاؤنٹر کے بعد پولیس جو کہانی گھڑتی ہے وہ بس ایک طرح کی ہی ہوتی ہے کہ پولیس کو پتہ چلا کہ مجرم کہیں آنے والا ہے ۔ پولیس نے اسے روکا تو اس نے پولیس پر فائر کیا۔ پولیس نے اپنے دفاع میں جوابی فائر کیا جس میں مجرم زخمی ہو گیا۔ اور سرکاری ہسپتال پہنچنے پر داخلے سے قبل اسے ڈاکٹروں نے مردہ قرار دے دیا۔‘

ممبئی پولیس فورس میں انکاؤنٹر کی کہانی انیس سو اکاسی سے شروع ہوتی ہے جب اس وقت کے سب انسپکٹر اسحق باگوان نے اس دور کے خطرناک گینگسٹر مانیا سروے کو بیچ بازار میں ہلاک کر دیا تھا۔ پولیس مڈبھیڑ کو اس کے بعد اس وقت کے پولیس کمشنر جولیو ایف ریبیرو نے خطرناک مجرمان کو پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے کے لیے پولیس اہلکاروں کو چھوٹ دی اور اسے سماج سے غنڈہ عناصر کو پاک کرنے کا ایک اچھا قدم قرار دیا۔ لیکن بعد میں پولیس نے انہیں دیے گئے حقوق کو غلط طریقہ سے استعمال کرنا شروع کر دیا۔

سابق آئی پی ایس افسر نے بی بی سی سے طویل گفتگو کے دوران اس کا اقرار کیا کہ چونکہ ہمارے قانون میں بہت سی خامیاں ہیں اور یہ عادی مجرمان گرفتاری کے بعد ضمانت پر رہا ہو کر دوبارہ اس طرح کے جرائم کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں یا پھر جیل کے اندر سلاخوں کے پیچھے رہ کر بھی اپنا نیٹ ورک چلاتے ہیں اس لیے سماج سے ایسے غنڈوں کو کم کرنے کے لیے انکاؤنٹر ایک صحیح راستہ ہے۔

پولیس مقابلے ہمیشہ ممبئی کے کسی سنسان علاقے میں رات کے دو یا تین بجے کے قریب ہوتے ہیں۔ جہاں کوئی بھی اس انکاؤنٹر کا عینی شاہد نہیں ہوتا۔

پولیس پر یہ بھی الزام عائد ہوتا رہا ہے کہ صرف اپنے انکاؤنٹر نمبر میں اضافہ کرنے کے لیے اکثر پولیس والوں نے ایسے مجرمان کو بھی انکاؤنٹر کیا ہے جو غلط راہ چھوڑ کر سدھر گئے تھے۔ گپتا عرف لکھن بھیا جن کے مبینہ فرضی انکاؤنٹر پر پولیس انسپکٹر شرما گرفتار ہوئے ہیں، ان کے وکیل بھائی کا دعویٰ ہے کہ ان کے بھائی نے مجرمانہ زندگی چھوڑ کر شادی کر لی تھی اور خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔ پولیس نے انہیں ان کے گھر سے اٹھا کر قتل کیا تھا۔

انیس سو اسی سے انیس سو ستانوے کا دور ممبئی میں گینگ وار کا دور تھا۔ جب سڑکوں پر کھلے عام دن دہاڑے قتل ہوا کرتے تھے۔ داؤد گینگ اور چھوٹا راجن گینگ کے ساتھ ہی ارون گاؤلی گینگ کے ذریعے بلڈروں اور بڑے تاجروں سے ہفتہ وصولی کی وارداتوں میں اضافہ شروع ہوا اور اسی دوران اعلیٰ پولیس افسران نے پولیس کو انکاؤنٹر کی چھوٹ دے دی۔

لیکن پولیس پر تب یہ الزام بھی عائد ہوا کہ وہ ایک گینگ سے پیسہ لے کر دوسرے گینگ کے غنڈوں کو ہلاک کیا کرتے تھے اور گینگ ممبران ہی دوسرے ممبران کی خبریں بھی ان انکاؤنٹر کےماہر پولیس افسران کو دیا کرتے تھے۔

سبکدوش آئی پی ایس افسر اس بات کو مانتے ہیں کہ چند انکاؤنٹر کے ماہر پولیس افسران انڈر ورلڈ کے ہاتھوں کا کھلونا بن گئے تھے اور انہوں نے انڈر ورلڈ سے اپنے حریفوں کو ختم کرنے کے لیے ’سپاری‘ (معاہدہ) لے کر قتل کیا تھا لیکن ساتھ ہی وہ یہ کہنا نہیں بھولے کہ اس طرح کم سے کم سماج سے ایسے غنڈوں کی دہشت ختم ہوئی۔

ممبئی پولیس کے تمام انکاؤنٹر کے ماہر پولیس افسران کسی نہ کسی تنازعہ میں گِھر چکے ہیں۔ پردیپ شرما اس وقت پولیس حراست میں ہیں۔ ان پر لکھن بھیا کے فرضی انکاؤنٹر کا معاملہ ہی نہیں ہے بلکہ گھاٹ کوپر بم دھماکے کے مبینہ ملزم خواجہ یونس کی پولیس حراست میں موت کا معاملہ بھی عدالت کے زیر سماعت ہے۔

پولیس سب انسپکٹر دیا نائیک جو اس وقت اپنی ملازمت سے معطل کیے جا چکے ہیں، ان کے کھاتے میں بیاسی انکاؤنٹر ہیں، پولیس انسپکٹر پرفل بھوسلے نے ستتر، اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر رویندر آنگرے کے ریکارڈ میں اکہتر مجرمان کو انکاؤنٹر کرنے، سچن وزے کے تریسٹھ اور وجے سالسکر کے کھاتے میں پچھتر انکاؤنٹر درج ہیں۔ ان میں سے پرفل بھوسلے اور سچن وزے کو خواجہ یونس کی پولیس حراست میں موت کے سلسلے میں معطل کیا جا چکا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ وہیں دوسری جانب آنگرے کے خلاف ایک بلڈر کو اغواء کرنے اور انہیں دھمکانے اور چوری جیسے معاملہ میں تحقیقات جاری ہیں۔

دیا نائیک کے خلاف آمدنی سے زیادہ دولت جمع کرنے کے الزام میں محکمہ جاتی تفتیش جاری ہے۔ شرما کو اس سے قبل سنہ دو ہزار آٹھ میں انڈر ورلڈ سے تعلقات کی وجہ سے ملازمت سے برطرف کیا جا چکا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں شروع سے ہی پولیس کے ذریعے کیےجانے والے انکاؤنٹر کو بند کرنے کے لیے احتجاج کرتی رہی ہیں لیکن پولیس کے اعلیٰ اہلکار اور خود حکومت کی جانب سے پولیس مقابلوں کو ہری جھنڈی دینے کی وجہ سے اب تک انکاؤنٹر جاری تھے۔ اب شرما کی گرفتاری اور انکاؤنٹر کے ماہر پولیس افسران کی کئی معاملات میں معطلی کی بناء پر حکومت خاموش ہو چکی ہے اور ریاست کے وزیراعلیٰ اشوک چوان نے پردیپ شرما کی گرفتاری کے بعد کہا تھا کہ ایسے افسران پولیس محکمے پر بدنما دھبہ ہیں۔ البتہ انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی تھی کہ کیا پولیس انکاؤنٹر اسی طرح جاری رہیں گے یا بند کر دیے جائیں گے؟