ماؤنواز تحریک: سکولی بچوں کی تعلیم متاثر

ماؤنواز باغی کی ایک فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنماؤنواز باغی اکثر سکولوں پر حملے کرتے ہیں۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی تازہ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ماؤنواز باغیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جاری ٹکراؤ کے سبب لاکھوں غریب بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔

یہ رپورٹ ریاست بہار اور جھارکھنڈ کے بائیس سکولوں کا دورہ کرنے کے بعد تیار کی گئی ہے۔

ریاست جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں جاری کی گئی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح ملک میں طویل عرصے سے جاری مسلح تحریک کے تحت ماؤنواز باغی سکولوں کو اپنا نشانہ بنا رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی پولیس اور نیم فوجی دستوں کی مہم کے لیے سکولوں پر لمبے وقت تک قبضہ کیاجاتا ہے جس کے سبب بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے بچوں کے حقوق کے شعبے میں ریسرچر اور اس رپورٹ کو تیار کرنے والے بیڈ شیپرڈ کا کہنا ہے ' ماؤنواز کہتے ہیں وہ ملک کے غریبوں کے لیے لڑ رہے ہیں۔ لیکن سکولوں پر انکے حملے بچوں کو انکی تعلیم سے محروم رکھتے ہیں۔'

تنظیم کے مطابق بغیر کسی حفاظتی انتظام کے سکول حساس نشانہ ہوتے ہیں اور ان پر حملہ کرنے سے میڈیا کا دھیان بھی اسی طرف جاتا ہے اور عام عوام میں خوف کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔

جھارکھنڈ میں ایک 16 سالہ طالبعلم نے تنظیم کو بتایا ' سکول بری طرح برباد ہوچکا ہے۔ پوری عمارت ختم برباد ہوچکی ہے۔ کھڑکیاں ٹوٹ گئی ہیں۔ فرش پر دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ سکول پوری طرح منہدم ہوچکا ہے'۔

بیڈ شپیرڈ کا کہنا ہے ' بھارت میں بے حد غریبی کی زندگی گزار رہے بچوں کی تعلیم تک رسائی ملک کی ترقی کے لیے بے حد ضروری ہے۔'

انکا مزید کہنا تھا کہ جن علاقوں میں پولیس اور باغیوں کے درمیان ٹکراؤ جاری ہے وہاں سکولی بچے تعلیم جیسے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔

رپورٹ میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ نکسلی رہنما اپنے جنگجو‎ؤں کو ہدایت دیں کہ وہ سکولوں پر حملے فوراً بند کریں۔ اس کے علاوہ حکومت بھی سکولوں کو فوجی کارروائیوں کے لیے استمعال کرنے کی پالیسی پر دوبارہ غور کریں۔