بابری مسجد:واجپئی اڈوانی ملوث تھے؟

بابری مسجد کی مسماری کی انکوائری کرنے والے لیبرہان کمیشن نے مبینہ طور پر اس واقعہ کے لیے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی، اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنماؤں ایل کے اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی کو مورد الزام ٹھہرایا ہے اور کہا ہے کہ انہدام کی منصوبہ بندی بہت سوچ سمجھ کر کی گئی تھی۔
انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس نے وزارت داخلہ میں ایسے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے جنہیں کمیشن کی رپورٹ تک رسائی حاصل ہے، کہ جسٹس منموہن سنگھ لیبرہان نے ان رہنماؤں کو ’سیوڈو ماڈریٹ‘ یا دکھاوے کے اعتدال پسند بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ انہیں مسجد کی مسماری کے منصوبے کا علم نہیں تھا یا وہ اس سازش میں شامل نہیں تھے۔
جسٹس لیبرہان نے سترہ سال کی تفتیش کے بعد تیس جون کو اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کی تھی اور خیال کیا جاتا ہے کہ سرکار پارلیمنٹ کے موجودہ اجلاس کے آخری دن اسے لوک سبھا میں پیش کرسکتی ہے۔ ایودھیا میں واقع بابری مسجد کو چھ دسمبر انیس سو بانوے کو ہندو انتہاپسندوں نے مسمار کر دیا تھا جن کا دعویٰ تھا کہ مسجد ان کے بھگوان رام کی جائے پیدائش پر تعمیر کی گئی تھی۔
اخبار کے مطابق رپورٹ میں مسلم رہنماؤں پر بھی یہ کہتے ہوئے تنقید کی گئی ہے کہ وہ ایک منطقی اور واضح نقطہ نظر پیش کرنے میں ناکام رہے۔ سنگھ پریوار ( آر ایس ایس، شو سینا اور وی ایچ پی) کی اعلیٰ قیادت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے ملک کو فرقہ وارانہ منافرت کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔
(بابری مسجد کی مسماری کے بعد ملک بھر میں فسادات پھوٹ پڑے تھے جن میں ہزاروں مسلمانوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔
کمیشن کے مطابق بی جے پی کے رہنما سنگھ پریوار کے ہاتھوں میں کھیل رہے تھے کیونکہ آر ایس ایس کے احکامات کی خلاف ورزی سے ان کا سیاسی مستقبل برباد ہوسکتا تھا۔
لیکن اخبار لکھتا ہے کہ کمیشن نےاس وقت کی وفاقی حکومت پر زیادہ تنقید نہیں کی ہے کیونکہ ’ آئین کے مطابق حکومت ریاست کے گورنر کی سفارش پر ہی مداخلت کرسکتی تھی لیکن گورنر نے ایسا نہیں کیا۔‘
اخبار کے مطابق کمیشن کا کہنا ہے کہ مسجد کی مسماری سے قبل ہندو قوم پرستوں نے انتہائی وسیع پیمانے پر تیاریاں کی تھیں جس کا پتہ اس بات سے چلتا ہے کہ جب مسجد گرائی جارہی تھی تو وہاں اس کے لیے آلات اور ساز وسامان موجود تھا، جو کار سیوک (ہندو مذہبی رضاکار) مسجد مسمار کررہے تھےان کے چہرے نقاب سے ڈھکے ہوئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مندر کی تعمیر کا مسئلہ تو اگرچہ اب ٹھنڈا پڑا ہے لیکن جب بھی یہ رپورٹ پارلیمان میں پیش کی جائے گی، حکمراں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان یہ بحث ضرور دوبارہ شروع ہو جائے گی مسجد کی مسماری کے لیے کون کتنا ذمہ دار تھا۔







