آندھرا پردیش: وزیرِاعلٰی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک

راج شیکھر ریڈی
،تصویر کا کیپشنراج شیکھر ریڈی نے اپنی پارٹی کو زبردست کامیابی دلائی تھی
    • مصنف, شکیل اختر، سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

ہندوستان کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے وزیر اعلٰی راج شیکھر ریڈی کی ایک فضائی حادثے میں موت ہوگئی ہے۔ ان کی آخری رسومات جمعہ کو ان کے آبائی گاؤں میں ادا کی جائيں گی۔

ساٹھ سالہ وزیر اعلٰی جس ہیلی کاپٹر میں سوار ہوکر بدھ کے روز حیدرآباد سے چتور کے لیے روانہ ہوئے تھے، وہ پرواز کے کچھ ہی دیر بعد لاپتہ ہو گیا تھا۔

انتہائی خراب موسم اور گھنے جنگلات میں چوبیس گھنٹے کی تلاش کے بعد ہیلی کاپٹر کا ملبہ ملا جس میں سے پانچ لاشیں برآمد کی گئیں۔

دلی میں وزیر داخلہ پی چدامبرم کے مطابق ہیلی کاپٹر زمین پر گر کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا تھا اور اس میں آگ لگ جانے سے لاشیں جھلس گئی ہیں۔

لاشوں کا پوسٹمارٹم کرنول شہر میں مکمل ہونے کے بعد جمعرات کی شام انہیں حیدرآباد لایا گا۔وائی ایس آر ریڈی کی آخری رسومات جمعہ کو عیسائی روایات کے مطابق ادا کی جائیں گی۔

راج شیکھر ریڈی کی موت کی خبر پھیلتے ہی سرکردہ سیاسی رہنماؤں اور وزیر اعلی کے سوگوار مداحوں نے ان کی سرکاری رہائش گاہ پر پہنچنا شروع کر دیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور کانگریس صدر سونیا گاندھی جمعہ کو حیدرآباد پہنچيں گے۔

ریاست کے وزیر خزانہ کے روزیا کو قائم مقام وزیر اعلی مقرر کیا گیا ہے۔

ہیلی کاپٹر ایک پہاڑ کی چوٹی پر حادثے کا شکار ہوا لیکن بھاری بارش اور گھنے جنگلات کی وجہ سے امدادی ٹیمیں وہاں نہیں پہنچ پا رہی تھیں۔حادثے کی وجہ ابھی معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

ہیلی کاپٹر میں وزیراعلٰی کے ساتھ ان کے چیف سکریٹری کے سبرامنیم، سکیورٹی افسر اے ایس ویسلی اور دو پائلٹ ایس کے بھاٹیا اور ایم ایس ریڈی سوار تھے۔ اطلاعات کے مطابق لاشوں کے پوسٹ مارٹم کے بعد ہی آخری رسومات کے بارے میں کوئی اعلان کیا جائے گا۔

وائی ایس راج شیکھر ریڈی کانگریس پارٹی کے سب سے طاقتور وزیر اعلٰی مانے جاتے تھے اور انہوں نے پارٹی کو آندھر پردیش میں لگاتار دو اسمبلی انتخابات میں فتح سے ہمکنار کرایا تھا۔

کانگریس کی ترجمان جینتی نٹراجن نے راج شیکھر ریڈی کی موت کو پارٹی کے لیے بھاری نقصان قرار دیا ہے۔ کانگریس کے دفاتر پر پارٹی کا جھنڈا سرنگو کر دیا گیا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ بی جے پی کے صدر دفتر پر پارٹی کا پرچم سر نگو رہے گا۔

راج شیکھر ریڈی کے ہیلی کاپٹر نے حیدرآباد کے بیگم پیٹ ائرپورٹ سے پیر کو صبح ساڑھے آٹھ بجے پرواز کی تھی اور وزیراعلٰی کو چتّور کے ایک پروگرام میں شرکت کے لیے پونےگیارہ بجے پہنچنا تھا۔ لیکن حکام کے مطابق سوا نو بجے ہیلی کاپٹر سے رابطہ منقتع ہوگیا۔

مسٹر ریڈی کے ہیلی کاپٹر کی تلاش میں فضائیہ کے جیٹ طیاروں، ہیلی کاپٹروں، ہزاروں کی تعداد میں سکیورٹی اہلکاروں اور کمانڈوز اور سیٹلائٹس کی مدد لی جارہی تھی۔

مسٹر ریڈی کی ہلاکت سے حکمران کانگریس کو زبردست نقصان پہنچا ہے ۔ وہ پارٹی کے بہترین وزراء اعلٰی میں شمار کیے جاتے تھے ۔ وہ اپنی غریب حامی پالیسیوں سے ریاست کے غریب عوام میں انتہائی مقبول تھے ۔ وہ گزشتہ دو ریاستی انتخابات میں کامیاب ہو ئے اور حالیہ پارلیمانی انتخابات میں انہوں نے کانگریس کو غیر متوقع کامیابی سے ہم کنار کیا تھا ۔ریاست میں وہ واحد ایسے رہنما تھے جو کانگریس کے مختلف دھڑوں کے مشترکہ نمائندے تھے۔

وزیر اعظم منموہن سنگھ کی رہائش گاہ پر کانگریس کے سینیئر رہنماؤں کی ایک ہنگامی میٹنگ ہوئی ہے جس میں ریڈی کی ناگہانی موت سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے ۔ اس میٹنگ میں وزیراعظم` کے علاوہ ، سونیا گاندھی ، وزیروفاع اے کے انٹونی ، پرنب مکھرجی ، پی چدامبرم اور احمد پٹیل نے شرکت کی۔ پارٹی کے کئی سینیئر رہنما حیدرآباد بھجے گۓ ہیں۔

راج شیکھر ریڈی پہلی مرتبہ انیس سو اٹھہتر میں ریاستی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ اس وقت ان کی عمر صرف انتیس برس تھی اور وہ صرف دو سال کے اندر ریاستی وزیر مقرر کیے گئے۔

لیکن اس کے بعد لمبے عرصے تک سیاسی بن باس میں میں رہنے کے بعد وہ سن دو ہزار تین میں ریاست گیر 'پدیاترا' پر نکلے اور اگلے سال انہوں نے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کو شاندار فتح دلاکر سیاسی مبصرین کو حیرت میں ڈال دیا۔