مایاوتی نے دلتوں کا اعتماد بڑھایا ہے

- مصنف, خدیجہ عارف
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، الہ آباد
ہندوستان کی سیاست میں اترپردیش کی اہمیت دو وجوہ سے سب سے زیادہ سمجھی جاتی ہے۔ پہلی تو یہ کہ اس ریاست کی سب سے زیادہ پارلمیانی سیٹیں ہیں اور سرکار کو بنانے اور بگڑانے کی قوت رکھتی ہے۔ دوسرے یہ کہ اس ریاست کی وزیر اعلی نہ صرف ایک خاتون بلکہ سماج کے سب سے پسماندہ دلت طبقے سے ہیں۔
اترپردیش پہنچنے پر سب سے پہلے یہ خیال آیا کہ دلت وزیر اعلی کے راج میں اس طبقے کا کیا حال ہے جو ایک لمبے عرصے سے ہندوستانی سماج میں امتیازی سلوک سہتا آیا ہے اور ترقی کی تقسیم میں بھی حاشیے پر ہے۔
ہندوستان کے16 کروڑ دلتوں کے لیے برسوں پرانی صورتحال بدلنے کی امید اس وقت جاگی تھی جب دو ہزار سات کے اترپردیش اسمبلی انتخابات میں بیس سالوں کے بعد مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی نے بھاری اکثریت حاصل کی۔
مایاوتی کا ارادہ اپنی دلی کی کرسی پر اپنا اختیار کرنے کا ہے۔ انہیں دلتوں کے راہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

الہ آباد سے 30 کلومیٹر دوری پر واقع جھوٹی تال دلت اکثریت والا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ یہاں کے بیشتر افراد کھیتی اور مزدوری کرکے گزارہ کرتے ہیں۔ بہت چھوٹا گاؤں ہونے کے باوجود یہاں کی سڑکیں پکی ہیں، گاؤں میں بارہویں تک اسکول ہے۔
میں نے یہاں کے ایک اسکول گئی جہاں دلت لڑکیوں کو بنیادی تعلیم کے ساتھ کڑھائی بنائی سکھائی جاتی ہے۔
اسکول میں زیر تعلیم بینو نے کہا ’ہمارے گاؤں میں سب لوگ تعلیم پر زور دے رہے ہیں۔ پہلے لڑکیاں کھیت پر کام کرتی تھیں اور گھر کا کام کرتی تھیں لیکن اب ہمارے ماں باپ اسکول بھیجنے پر زور د رہے ہیں اور اب گاؤں کی لڑکیاں گھر کے کام کے ساتھ ساتھ اسکول بھی جاتی ہیں‘۔ وہ کہتی ہیں کہ مایاوتی کا وزیر اعلی بننا اچھا ہے۔
بینو کے والدین کا کہنا ہے کہ آج انہیں بہتر مزدوری ملتی ہے، ان کے پاس پکا مکان ہے اور مایاوتی کے اقتدار میں ہونے سے ان کے طبقے کے لوگ اعلی عہدوں پر پہنچ گئے ہیں۔ انہیں وہ دن بھی یاد ہیں جب اونچی ذات کے لوگ انہیں اپنی چارپائی پر نہیں بیٹھنے دیتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

کیا حالات ریاست کے سبھی دلتوں کے اچھے ہیں، اور اس میں مایاوتی کا کتنا حصہ ہے۔ الہ آباد میں مقیم سوشیولوجسٹ بدری نارائن کا کہنا ہے ’دلتوں کے ساتھ جو بدسلوکی کی جاتی تھی وہ بہت کم ہوئی ہے۔ اور یہ اس لیے نہیں ہوا ہے کہ ریاستی حکومت نے اس کے لیے براہ راست کوئی قدم اٹھایا ہے لیکن ایک دلت کا وزیر اعلی ہونے سے ماحول بنا ہے۔ جو بدسلوکی کرنے والے تھے جیسے پولیس جو دلت خاتون کا ریپ ہونے دیتی تھی یا جو مافیہ، اور اونچی ذات والے انہیں تنگ کرتے تھے وہ اب کچھ بھی کرنے سے پہلے سوچتے ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ ریاست میں ایک دلت کا راج ہے‘۔
لیکن مایاوتی اور ان کی پارٹی کے مخالفین کا کہنا ہے کہ مایاوتی نے دلتوں کے لیے وہ کام نہیں کیے جن کا وعدہ کیا تھا۔ دلتوں کے لیے انہوں نے ترقی کے منصوبے نہیں بنائے۔ کانگریس پارٹی سے تعلق رکھنے والے الہ آباد کے میئر چودھری جتیندر ناتھ سنگھ کا کہنا ہے کہ ’دلتوں کو مایاوتی سے بہت امیدیں تھیں لیکن دلتوں کی حالت مایاوتی کے زمانے میں بھی زیادہ نہیں سدھری ہے۔ اس ليے ان انتخابات میں انہوں نے دوسری پارٹیوں کی حمایت کی ہے‘۔
الہ آباد سے بہوجن سماج پارٹی کے امیدوار اشوک باجپئی کہتے ہیں ’بہن جی نے ہمیشہ دلتوں اور پسماندہ طبقے کے لوگوں کے بارے میں سوچا ہے۔ دلتوں کو نوکریاں دی گئی ہیں، دلت لڑکیوں کی شادی کے لیے پیسے دینے سے لیکر ان کے لیے مفت تعلیم کی پالیساں عمل میں لائی گئی ہیں۔ ریاست کا دلت ان کے ساتھ ہے‘۔
مایاوتی کے مخالفین مایاوتی کے سیاست کرنے کے طریقہ کار اور دلتوں کے لیے ان کے کام پر سوالیہ نشان لگاسکتے ہیں لیکن دلت برادری کے افراد سے بات کرنے پر اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ مایاوتی ان کے کے لیے کچھ نہ بھی کرے تب بھی وہ اس سے خوش نظر آتے ہیں۔ کیونکہ ان کے لیے یہ کافی ہے کہ ان کے درمیان سے نکلی ان ہی جیسی ایک عورت آج ملک کی سیاست پر اثر انداز ہونے کی قوت رکھتی ہے اور اس کے اس مقام پر ہونے سے وہ اپنے آپ کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔







